- فتوی نمبر: 35-110
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > ادھیارے کی صورتیں
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
1۔ ہمارے علاقے میں مویشی کو حصہ شراکت پر دینے کا یہ طریقہ رائج ہے مثال کے طور پر مالک زید ہے جبکہ دیکھ بھال کرنے والا خالد ہے ، زید نے جانور کا بچہ خریدا اس کی قیمت 50 ہزار تھی اور خرید کر خالد کو دے دیا، خالد نے اس جانور کی دیکھ بھال کی اور چارہ اپنے پاس سے ڈالا جب جانور کو حمل ہوا یا بیچنے کے قابل ہوا تو اس کی قیمت 2 لاکھ لگی اب خالد اور زید کل قیمت 2 لاکھ میں سے آدھا آدھا مثلا ایک لاکھ خالد اور ایک لاکھ زید رکھ سکتے ہیں؟ اگر جانور کا نقصان ہو جائے مثلا مر جائے تو نقصان زید کے ذمے ہوگا کیونکہ خالد کی محنت دیکھ بھال ضائع ہوئی۔
2۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مالک زید نے ایک لاکھ کا بڑا جانور لے کر خالد کو شراکت پر دیا جانور تیار ہونے کے بعد تین لاکھ کا بیچا تو قیمت فروخت سے قیمت خرید نکال کر نفع برابر تقسیم ہو جائے گا مثلا ایک لاکھ زید اور ایک لاکھ خالد لے گا۔ کیا یہ صورت جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ دونوں صورتیں فقہ حنفی کے مطابق تو جائز نہیں ہیں البتہ فقہ حنبلی کے مطابق اس کی گنجائش ہے ۔لہذا مذکورہ دونوں صورتوں پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
الشرح الکبیر لابن قدامہ (6/19)
ولو استأجر راعيا لغنم بثلث درها وصوفها وشعرها ونسلها أو نصفه أو جميعه لم يجز نص عليه أحمد في رواية سعيد بن محمد النسائي لان الاجر غير معلوم ولا يصلح عوضا في البيع، قال اسمعيل بن سعيد سألت أحمد عن الرجل يدفع البقرة إلى الرجل على أن يعلفها ويحفظها وولدها بينهما فقال اكره ذلك وبه قال ابو ايوب وأبو خيثمة ولا أعلم فيه مخالفا لان العوض معدوم مجهول لا يدرى ايو جدام لا، والاصل عدمه ولا يصلح أن يكون ثمنا، فان قيل فقد جوزتم دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف مغلها قلنا انما جاز ثم تشبيها بالمضاربة ولانها عين تنمي بالعمل فجاز اشتراط جزء من النماء كالمضاربة والمساقاة وفي مسئلتنا لا يمكن ذلك لان النماء الحاصل في الغنم لا يقف حصوله على عمله فيها فلم يمكن الحاقه بذلك.
وذكر صاحب المحرر رواية أخرى انه يجوز بناء على ما إذا دفع دابته أو عبده يجزء من كسبه والاول ظاهر المذهب لما ذكرنا من الفرق، وعلى قياس ذلك إذا دفع نحله إلى من يقوم عليه بجزء من عسله وشمعه يخرج على الروايتين فان اكتراه على رعيها مدة معلومة بجزء معلوم منها صح لان العمل والمدة والاجر معلوم فصح كما لو جعل الاجر دراهم ويكون النماء الحاصل بينهما بحكم الملك لانه ملك الجزء المجعول له منها في الحال فكان له نماؤه كما لو اشتراه.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved