- فتوی نمبر: 36-306
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا گھر میں مستقل طور پر جائے نماز بچھا رہنا چاہیے ؟ جس کے کچھ حصے سے آتے جاتے اوپر سے پاؤں کا بھی گزر ہوتا ہے جو کہ میں ذاتی طور پر بالکل مناسب نہیں سمجھتا۔ مگر میرے فلیٹ میٹ (فلیٹ میں ساتھ رہنے والے ساتھی) کا اس بات پر اختلاف ہے۔ برائے مہر بانی رہنمائی فرما دیجئے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دونوں (صورتوں) میں سے کوئی بھی لازمی نہیں ہے جیسے مرضی کر سکتے ہیں ۔(البتہ آمد ورفت سے جائے نماز سے گندے ہونے کا اندیشہ ہو تو حفاظت کی غرض سے لپیٹ دینا چاہیے)
کفایت المفتی (3/492) میں ہے :
سوال :عام لوگ بعد نماز کے کونہ جا نماز کا الٹ دیتے ہیں کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟
جواب: جا نماز کا کونہ الٹ دینے کی کوئی اصل نہیں نہ کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے اور جو وجہ مشہور ہے کہ شیطان اس پر نماز پڑھ لیتا ہے یہ غیر ثابت اور غیر معقول ہے ہاں بغرض حفاظت جا نماز کو لپیٹ دینا تو درست ہے مگر صرف کونہ الٹ دینے میں کوئی حفاظت بھی نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/374) میں ہے :
سوال : بعض جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے کہ نماز کی ادائیگی کے بعد بچھی ہوئی جائے نماز کا ایک کو نا موڑ دیا جاتا ہے، کیا یہ کسی روایت سے ثابت ہے؟
جواب : نماز پڑھ کر جائے نماز کا کونا پلٹنا محض ایک رواج ہے، ضرورت ہو تو اس کو تہہ کر دینا چاہیے ، اور یہ جو مشہور ہے کہ اگر جائے نماز کو اسی طرح رہنے دیا جائے تو شیطان اس پر نماز پڑھتا ہے، یہ فضول بات ہے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/374) میں ہے :
سوال : تنہا نماز پڑھنے کے بعد نمازی جائے نماز یا مصلے کے دائیں طرف سے اوپر کا حصہ تھوڑا سا موڑ دیتے ہیں، عام تاویل یہ ہے کہ اگر پوری جائے نماز کو اسی طرح بچھا ہوا ر ہنے دیا جائے تو شیطان اس پر نماز پڑھنے لگتا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب : شیطان کے نماز پڑھنے کی بات غلط ہے ، مسجد میں تو چوبیس گھنٹے صفیں بچھی رہتی ہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved