• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جائے نماز پر متبرک نقوش کا حکم

استفتاء

سنا ہے کہ جائے نماز پر اگر مدینہ منورہ  کی تصاویر ہوں تو اس پر نماز نہیں ہوتی کیا یہ سچ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسی بات درست نہیں، نماز ہوجاتی ہے۔

فتاویٰ محمودیہ(6/671) میں ہے:

سوال:  جائے نماز پر خانہ کعبہ کی تصویر ہے ان پر نماز پڑھنا کیساہے آیا اس تصویر کو دوسرا کپڑا چڑھا کرچھپادیاجائے یاکیاکیاجائے اگرفروخت کرتے ہیں توچوتھائی قیمت ملتی ہے اور مسجد کانقصان ہے۔

الجواب:  حامدا ًومصلیاً!صورت مسؤلہ میں ان مصلوں پرنماز پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں نہ ان پر کپڑا چڑھانے کی ضرورت ہے نہ ان کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔’’ فی غنية المستملی وأما صورة غیر ذی الروح فلاخلاف فی عدم کراهة الصلوة عليها أو اليها‘‘

اور اس تصویر سے خانہ کعبہ کی تعظیم میں بھی کوئی فرق نہیں آتا،کیونکہ تصویر کا حکم عین شئی کا حکم نہیں ہوتا۔ دوسرے خود خانہ کعبہ میں جب نماز پڑھی جاتی ہے تووہاں بھی زمین پیروں کے نیچے ہوتی ہے جب وہ تعظیم کے منافی نہیں توتصویر کا پیروں کے نیچے ہونا بطریق اولیٰ تعظیم کے منافی نہ ہوگا۔ 

فتاوی محمودیہ (6/673) میں ہے:

سوال: کچھ روز قبل مفتی عزیزالرحمن صاحب بجنوری نے ایک فتویٰ شائع کیاتھا اور اس بات پر زور دیاتھا کہ اٹلی کا مخمل جائے نماز (مصلّٰی) جوعام طورسے حجاج اپنے ہمراہ حجاز سے لاتے ہیں اوراس پر حرمین شریفین کی تصویر ہوتی ہے، اس کا استعمال نماز کے لئے درست نہیں ہے اور اس پرنماز پڑھنے سے منع کیاتھا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے اور اس کا مقصد نماز میں دھیان بانٹنا اورمناجات کی لذت سے غافل کردیناہے۔ ادھر کچھ دنوں سے اس مسئلہ پر بنارس میں دوگروہ ہوگئے ہیں۔ بعض لوگ مفتی صاحب کے فتوے کی بناء پر ا س قسم کے مصلّٰی کو مساجدسے نکال دینے پر مُصرِ ہیں اورکم لوگ عمومِ بلویٰ اورمصالح مرسلہ جیسی اصطلاحات کا استعمال کرکے اس مصلے کو کراہت سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ میرے  پاس بھی اس سلسلہ میں ایک استفتاء آیا ہے لیکن میرے سامنے اس سلسلہ میں کوئی واضح بات نہیں ہے۔ براہِ کرم اپنی رائے سے نوازیں۔ تاکہ یہاں کابتایا ہوامسئلہ مرکز کے خلاف نہ ہوجائے۔

الجواب: حرمین شریفین سے لائے ہوئے مصلّے کے متعلق یہودیوں کی سازش اورنیت کامجھے علم نہیں۔ اس پر جوتصویر  ہے وہ ذی روح کی نہیں اس لئے تواس حکم میں یہ داخل نہیں جس  کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے جس میں تشبہ بعبادۃ الاوثان لازم آتاہو۔ رہانقش ونگار کاقصد تواس میں ہی کیا منحصر ہے۔ وہ توآج عام ہے۔ مسجد کے درودیوار، صفوف، دری، جائے نماز، لباس کی بناوٹ، کرتہ، گھڑی، لنگی، تسبیح کون سی چیز ایسی ہے جودل ہٹا کرمخلِ خشوع نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود اکثر نفوس ایسے ہیں کہ ان کو ایسے نقوش کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا۔

کتاب الفتاویٰ، از خالد سیف اللہ رحمانی صاحب  (2/233) میں ہے:

جائے نماز پر آج کل حرمین شریفین کے نقش کا رواج ساہوگیا ہے، ایسی جانمازوں پر کھڑا ہونا ان مقامات مقدسہ کی توہین نہیں ، کیونکہ تصویریں اصل کا درجہ نہیں رکھتیں، اور عام حالات میں کھڑے ہونے والے کی نیت توہین کی نہیں ہوتی ،ہاں ! اگر کوئی بد بخت توہین کی نیت سے کھڑا ہوتو یقینا گناہ ہے، بلکہ کفر کا اندیشہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved