• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

کفارے کی رقم اکٹھی اور ایک وقت میں ساٹھ مسکینوں دینا، کفارہ کی رقم یا کھانا اپنی بیوی بچوں کو دینا اور کھلانا

استفتاء

حضرت مفتی صاحب! تقریباً 30 سال کی عمر میں رمضان المبارک کے اندر روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کر بیٹھا تھا اور اب میری عمر 70 سال سے اوپر ہے، بستر مرگ پر ہوں۔ تو اب مجھے احساس ہوا، لیکن اب میری حالت یہ ہے کہ انتہائی ضعف اور بیماریوں کی کثرت کی وجہ سے روزے رکھ نہیں سکتا۔ اور بہت زیادہ غریب ہوں کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک ہی مرتبہ اکٹھا کھانا کھلا سکوں یا غلہ یا رقم دے سکوں تو پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیے کیا کوئی گنجائش ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے کفارہ ادا کر دوں یا اپنے بیوی بچوں کو جو کھلاتا ہوں اسی کو کفارہ شمار کر لوں؟ اور کیا غربت کی وجہ سے بیوی بچوں کو کفارہ کی رقم دینا یا کھانا کھلانا   جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

روزے کے کفارے کی رقم اکٹھی اور ایک ہی وقت میں ساٹھ مسکینوں کو دینا ضروری نہیں۔

لہذا مذکورہ صورت میں آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ساٹھ دن تک روازنہ کسی ایک مسکین کو پونے دو کلو گندم کی قیمت دے دیں یا کسی ایک مسکین کو ساٹھ دن تک صبح و شام کھانا کھلا دیں یا 120 دن تک صرف ایک وقت یعنی صبح یا شام کا کھانا کھلا دیں۔

نیز ان تمام صورتوں میں 60 دن یا 120 دن پورے کرنے ضروری ہیں، تسلسل کے ساتھ پونے دو کلو گندم کی قیمت دینا یا کھانا کھلانا ضروری نہیں۔

2۔ اپنے بیوی بچوں کو کفارے کی رقم دینے یا کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہو گا۔

التنوير  الابصار ( … /143) میں ہے:

فإن أفطر بعذر أو بغيره أو وطئها فيهما مطلقاً اسأنف الصوم لا الإطعام، لإطلاق النص.

الدر المختار (5/ 146) میں ہے:

(كما) جاز (لو أطعم ستين يوماً) لتعدد الحاجة. و في الشامية تحت قوله (كما جاز لو أطعم) قلت: و مقتضاه أنه لو غداه مائة و عشرين يوما أجزأه عن كفارة الظهار. ثم رأيته صريحاً قال التاتارخانية: و عن الحسن بن زياد عن أبي حنيفة إذا غدى واحداً مائة و عشرين يوماً أجزأه. و قوله (لتعدد الحاجة) لأن المقصود سد خلة المحتاج، و الحاجة تتجدد بتجدد الأيام.

رد المحتار (5/ 145) میں ہے:

(و مصرفاً) فلا يجوز إطعام أصله و فرعه و أحد الزوجين و مملوكه و الهاشمي… فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved