- فتوی نمبر: 35-163
- تاریخ: 07 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں زید ولد خالد میری شادی فاطمہ ولد بکر سے ہوئی، آج سے چار سال پہلے میری بیوی کراچی سے اپنے گاؤں والدین کے پاس ملنے گئی کچھ دن ہم دونوں کے بیچ بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی میں گاؤں پہنچا تو دل میں خیال تھا کہ اس دفعہ بیوی کو ساتھ نہیں رکھوں گا اس نیت سے میں ایک 50 روپے والے اسٹام پیپر پر طلاق لکھ کر کمرے میں چھوڑ آیا جس کے الفاظ یہ تھے کہ “میں زید ولد خالد اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ فاطمہ ولد بکر کو طلاق دیتا ہوں” اور کراچی واپس آگیا ایک مہینے کے بعد میری بیوی کو صفائی کرتے ہوئے وہ اسٹام پیپر ملا جس کے بعد اس کے گھر والوں نے میرے گھر والوں سے رابطہ کیا اور تصدیق کی کہ کیا اسٹام پیپر زید نے دیا ہے؟ میں نے کہا” جی، میں نے دیا ” جس کے بعد میرے گھر والوں نے کہا کہ یہ بہت غلط کیا ہے ہم تمہاری بیوی کو واپس لے کر آئیں گے جس پر میں رضامند ہو گیا اور میری والدہ گاؤں چلی گئی لیکن وہاں جا کر مسئلہ حل نہیں ہوا اور میری بیوی کے گھر والوں نے میری بیوی کو بھیجنے سے انکار کر دیا میری والدہ نے کہا کہ تمہاری بیوی تین ماہ کی حاملہ ہے جس کا مجھے علم نہیں تھا کیونکہ میری بیوی سے بات چیت بندتھی صرف ازدواجی تعلق کبھی ہو جاتا تھا جس کے بعد میری والدہ کراچی آگئی اور میرے ماموں عمراور والدہ کے ماموں عبداللہ میرے سسر کے پاس صلح کے لیےگئے لیکن وہ نہیں مانے کچھ عرصہ بعد میرا چھوٹا بھائی عبدالرحمٰن اور میرا کزن ضیاء صلح کے لیے گئے لیکن وہ نہیں مانے یہ سب لوگ میری مرضی سے صلح کے لیے گئے اب اس تمام معاملے کو چار سال گزر گئے ہیں اور ان چار سال میں میری کبھی بیوی یا سسر سے بات نہیں ہوئی۔
نوٹ: اسٹام پیپر ساتھ لف ہے، نیز میں نے زبان سے رجوع کے کلمات ادا نہیں کیے اور دل سے ساتھ رکھنے پر بھی مطمئن نہ تھا لیکن والدہ کی زبردستی اور ان کا پریشر تھا اس وجہ سے بیوی کو واپس لانے پر رضامند ہوگیا تھا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی پر ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ٹوٹ گیا ہے میاں بیوی اگر دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں۔
توجیہ: مذکورہ تحریر کتابت مستبینہ مرسومہ ہے لہٰذا طلاقنامے کے الفاظ “میں زید ولد خالد اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ فاطمہ ولد بکر کو طلاق دیتا ہوں” سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی پھر چونکہ شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا لہٰذا رجعی طلاق بائنہ بن گئی اور نکاح ٹوٹ گیا۔
شامی (4/442) میں ہے:
كتب الطلاق، إن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
بدائع الصنائع (3/180) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت
ہدایہ (2/257) میں ہے:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ” لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved