- فتوی نمبر: 37-70
- تاریخ: 17 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
اگر گاڑیوں کے سپیئر پارٹس کے کاروبار میں تین پارٹنر ہوں ایک کی صرف انویسٹمنٹ ہو اور دو پارٹنر کی صرف محنت ہو اب اس کام سے جو بھی نفع ہوگا اس نفع کے دو حصے ہوں گے یعنی ایک مکمل حصہ انویسٹر کا ہوگا اور دوسرا حصہ محنت کرنے والے دونوں پارٹنر کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا تو کیا یہ جائز ہے؟ اور خدانخواستہ اگر نقصان ہوجائے تو وہ تینوں پارٹنرز کے ذمے ہوگا یا صرف انویسٹر کے ذمے ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کاروبار کی مذکورہ صورت جائز ہے اور نقصا ن کی تفصیل یہ ہے کہ نقصان اگر کام کرنے والوں کی کوتاہی سے ہو تو اس کے ذمہ دار صرف کام کرنے والے ہوں گے، اور اگر کوتاہی نہ ہو تو نقصان کا اُصول یہ ہوگا کہ نقصان پہلے نفع سے پورا کیا جائے گا، (اگر نفع ہوا ہو) اور اگر نفع نہ ہوا ہو تو رب المال،(سرمایہ لگانے والے) کے سرمایہ سے پورا کیا جائے گا۔
الاصل للشیبانی (4/178) میں ہے:
وإذا دفع الرجل ألف درهم إلى الرجلين مضاربة وأحدهما نصراني فهو جائز
المبسوط للسرخسی (22/44) میں ہے:
ولو دفع إلى رجلين مالا مضاربة وأمرهما بأن يعملا في ذلك برأيهما فليس لواحد منهما أن يشتري ويبيع إلا بأمر صاحبه؛ لأنه رضي وفوض الأمر في العمل إلى رأيهما، ورأي الواحد لا يكون كرأي المثنى.
الدر المختار مع ردالمحتار (5/656) میں ہے:
(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين.
قوله (من عمله ) يعنى المسلط عليه عند التجار واما التعدي فيظهر انه يضمن
تبیین الحقائق (5/67) میں ہے:
قال رحمه الله (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك إلى العفو في الزكاة قال رحمه الله (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد.
مجمع الأنہر (2/325) میں ہے:
“(فإن تجاوز) المضارب بأن يخرج إلى غير ذلك البلد فتصرف فيه أو اشترى سلعة غير ما عينه أو في وقت غير ما عينه أو باع مع غير من عينه (ضمن) لأنه صار غاصبا بالمخالفة وكان المشترى له (والربح له) أي للمضارب، وعليه خسرانه.”
مجمع الضمانات (ص:303) میں ہے:
ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره.
قاضیخان علی ہامش الہندیہ (7/165) میں ہے:
المضاربة تفسد بأشياء منها: إذا شرط على المضارب ضمان ما هلك في يده
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved