• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کسی نے قسم کھائی کہ”میں آئندہ گندا نشہ نہیں کروں گا”تو کیا یہ قسم ویپ اور شیشہ کو شامل ہے؟

استفتاء

مفتی صاحب، میں نے  قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ “میں قرآن پر ہاتھ رکھتا ہوں  کہ میں آئندہ سگریٹ اور گندا نشہ نہیں کروں گا” میں نے ویپ اور شیشہ/حقہ کا نام زبان سے نہیں لیا تھا۔ البتہ دل میں یہ بات تھی کہ میں ویپ اور شیشہ نہیں چھوڑوں گا۔براہِ کرم بتائیں کہ کیا میری قسم میں ویپ اور شیشہ بھی شامل ہیں؟ اگر میں ویپ یا شیشہ استعمال کروں تو کیا میری قسم ٹوٹ جائے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  چونکہ آپ نے قسم کے الفاظ  نہیں کہے تھے اس لیے ویپ / شیشہ کے استعمال کرنے سے آپ حانث  نہیں ہوں گے۔

توجیہ: قسم کے صحیح ہونے کے لیے قسم کے الفاظ کہنا شرط ہے، قسم کے الفاظ کہے بغیر قسم نہیں ہوتی لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ کی قسم منعقد نہیں ہوئی۔

شامی (3/704) میں ہے:

‌وركنها ‌اللفظ المستعمل فيها

البحر الرائق (4/300) میں ہے:

‌وركنها ‌اللفظ المستعمل فيها وشرطها العقل والبلوغ

شامی (3/713) میں ہے:

(قوله وقال العيني إلخ) عبارته: ‌وعندي ‌لو ‌حلف ‌بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة ورغبة العوام في الحلف بالمصحف اهـ وأقره في النهر

فتاوی محمودیہ (14/42)  میں ہے:

“محض قرآن مجید ہاتھ میں لے کربات کہنے سے قسم نہیں ہوجاتی،جب تک لفظِ قسم نہ کہے۔”

امداد الاحکام (3/40) میں ہے:

“محض قرآن سر پر رکھناجب تک لفظِ قسم زبان سے نہ کہے،قسم نہیں۔”

فتاوی مفتی محمودؒ (8/452) میں ہے:

“صرف قرآن مجید کو ہاتھ میں اٹھا کر کوئی کلمہ کہے اس سے حلف نہیں ہوتا،البتہ اگر وہ بات غلط ہوتو جھوٹ کا گناہ ہوگا،جس سے استغفار کرنا لازم ہے۔”

مسائل بہشتی زیور (2/157)  میں ہے:

قران کی قسم،  کلام اللہ کی قسم ، کلام مجید کی قسم کھا کر کوئی بات کہی تو قسم ہو گئی اور اگر کلام مجید کو ہاتھ میں لے کر اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہی لیکن قسم نہیں کھائی تو قسم نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved