- فتوی نمبر: 35-392
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
ہم نے یہ سوال پوچھنا تھا کہ کیا کسی بھی اچھے کام کو شروع کرنے کے لیےمخصوص دن کا انتخاب کرنا مثلاً یہ کہ جمعہ والے دن سے شروع کیا جائے کہ برکت والا دن ہے یا پیر یا بدھ وغیرہ سے آغاز کرنا خاص طور پر کسی دینی کام مثلاً اسباق وغیرہ اور اسکے بر عکس باقی دنوں میں مثلاً منگل والے دن کسی کام کے شروع کرنے کو بہتر نہ سمجھنا اسکے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا یہ چیز شریعت سے ثابت ہے یا ایسا کرنا درست ہے ؟ اسکی کوئی حقیقت ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جس دن کی برکت یا فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہو (جیسا کہ جمعہ، جمعرات ، پیر اور بدھ کا دن) اس دن کی برکت یا فضیلت کو حاصل کرنے کی غرض سے کسی کام کو اس دن میں شروع کرنا شریعت سے ثابت ہے اور جس دن کی برکت یا فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اس دن میں کسی کام کو شروع کرنے نہ کرنے میں اختیار ہے تاہم اس دن میں کسی کام کے شروع کرنے کو منحوس سمجھنا درست نہیں۔
صحیح بخاری (رقم الحدیث:2949) میں ہے:
وعن يونس عن الزهري قال: أخبرني عبد الرحمن بن كعب بن مالك: أن كعب بن مالك رضي الله عنه كان يقول: «لقلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج إذا خرج في سفر إلا يوم الخميس»
ترجمہ: حضرت کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جمعرات کے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔
مرقاۃ المفاتیح (7/444) میں ہے:
عن كعب بن مالك رضي الله عنه: أن النبي خرج يوم الخميس في غزوة تبوك، وكان يحب أن يخرج يوم الخميس. رواه البخاري
(وكان يحب أن يخرج) : أي: إذا غزا كما في رواية الجامع (يوم الخميس) : قال التوربشتي: اختياره رصد يوم الخميس للخروج محتمل لوجوه. أحدها: أنه يوم مبارك يرفع فيه أعمال العباد إلى الله تعالى، وقد كانت سفراته لله، وفي الله، وإلى الله، فأحب أن يرفع له فيه عمل صالح. وثانيها: أنه أتم أيام الأسبوع عددا. وثالثها: أنه كان يتفاءل بالخميس في خروجه، وكان من سنته أن يتفاءل بالاسم الحسن والخميس الجيش ; لأنهم خمس فرق: المقدمة، والقلب، والميمنة، والميسرة، والساقة، فيرى في ذلك من الفأل الحسن حفظ الله له وإحاطة جنوده به حفظا وحماية، وزاد القاضي، ولتفاؤله بالخميس على أنه يظفر على الخميس الذي هو جيش العدو، ويتمكن عليهم، وإلا شرف، أو ; لأنه يخمس فيه الغنيمة
جمع الجوامع، للسیوطیؒ (20/660) میں ہے:
عن ابن عباس قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا جاء الشتاء دخل البيت ليلة الجمعة،وإذا جاء الصيف خرج ليلة الجمعة،وإذا لبس ثوباً جديداً حمد الله وصلى ركعتين وكسا الخلق.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی کا موسم آتا تو جمعہ کی رات گھر میں داخل ہوتے تھے اور جب گرمی کا موسم آتا تو جمعہ کی رات گھر سے باہر تشریف لاتے تھے۔
السراج المنیر، للعزیزی،ت: ۱۰۷۰ھ (4/57) میں ہے:
قال المناوي يحتمل أن المراد بيت الاعتكاف ويحتمل الكعبة اهـ وسكت عن احتمال ما اعتاده الناس من دخولهم البيوت في الشتاء والخروج منها في الصيف والظاهر أنه المراد
مسند احمد (22/425) میں ہے:
حدثنا أبو عامر، حدثنا كثير يعني ابن زيد، حدثني عبد الله بن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، حدثني جابر يعني ابن عبد الله، أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا في مسجد الفتح ثلاثا: يوم الاثنين، ويوم الثلاثاء، ويوم الأربعاء، فاستجيب له يوم الأربعاء بين الصلاتين، فعرف البشر في وجهه ” قال جابر: ” فلم ينزل بي أمر مهم غليظ، إلا توخيت تلك الساعة، فأدعو فيها فأعرف الإجابة
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق کے موقع پر مسجد الفتح میں تین دن تک دعا مانگتے رہے پیر ، منگل اور بدھ کے دن حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بدھ کے دن ظہر و عصر دو نمازوں کے درمیان قبول کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ میں خوشی کے آثار دیکھے گئے، حضرت جابر ؓفرماتے ہیں جب بھی مجھے کوئی اہم اور مشکل کام پیش آتاہے تو میں اس دن کی اس گھڑی (ظہر و عصر کے درمیان )کا انتظار کرتا ہوں اور اس وقت دعا مانگتا ہوں تو دعا کی قبولیت کو پہچان لیتا ہوں۔
الطبقات الکبریٰ ، لابن سعد، ت: ۲۳۰ھ (2/56) میں ہے:
أخبرنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي البصري. أخبرنا كثير بن زيد قال: سمعت عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال: سمعت جابر بن عبد الله قال: دعا رسول الله – صلى الله عليه وسلم – في مسجد الأحزاب يوم الاثنين ويوم الثلثاء ويوم الأربعاء فاستجيب له يوم الأربعاء بين الصلاتين الظهر والعصر فعرفنا البشر في وجهه. قال جابر: فلم ينزل بي أمر مهم غائظ إلا توخيت تلك الساعة من ذلك اليوم فدعوت الله فأعرف الإجابة
حدیث ابی بکر الانباری (ص:36) میں ہے:
حدثنا ابن أبي العوام، ثنا موسى بن داود الضبي، ثنا حرب بن تغلب المديني عن عطاء بن ميسرة، عن عطاء بن أبي رباح، عن عائشة، قالت: «إن أحب الأيام إلي يخرج فيه مسافري وأنكح فيه أيمى، وأحسن فرحتي يوم الأربعاء»
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میرے نزدیک دنوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ دن کہ جس میں میں اپنے مسافر کو روانہ کروں اور جس میں میں غیر شادی شدہ کا نکاح کروں اور جس میں اپنی خوشی کا کام انجام دوں وہ بدھ کا دن ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح (1/635) میں ہے:
وعن أبي قتادة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم الاثنين فقال: «فيه ولدت وفيه أنزل علي»
ترجمہ: حضرت ابو قتادہؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزہ (رکھنے کی وجہ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (چونکہ) اس دن میں پیدا کیا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن اتارا گیا۔(اس لیے میں پیر کے دن کا روزہ رکھتا ہوں)
شرح المشکوٰۃ للطیبی (5/1608) میں ہے:
قوله: ((فيه ولدت، وفيه أنزل علي)) أي فيه وجود نبيكم، وفيه نزول كتابكم، وثبوت نبوته، فأي يوم أفضل وأولي للصيام منه؟ فاقتصر علي العلة، أي سلوا عن فضيلته؟ لأنه لا مقال في صيامه، فهو من الأسلوب الحكيم
شرح المصابیح لابن ملک (2/541) میں ہے:
“عن أبي قتادة: أنه سئل رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن صوم يوم الإثنين فقال: فيه ولدت، وفيه أنزل علي”: أجاب – صلى الله عليه وسلم – بما يدل على أن هذا اليوم مبارك، وصومه محبوب
اغلاط العوام (ص:47) میں ہے:
مسئلہ بہت لوگ منگل کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں سو یہ بھی بالکل غلط ہیں کسی بھی دن کو منحوس سمجھنا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved