- فتوی نمبر: 36-277
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا جنبیہ عورت کا بچے کو دودھ پلانا جائز ہے؟ مکمل غسل سے پہلے یا پستان دھونے سے پہلے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جنبیہ عورت حالت جنابت میں غسل کرنے سے پہلے اور پستان دھونے سے پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلے وضو کرلے۔
مرقاۃ المفاتیح (2/141) میں ہے:
(” «إن المؤمن لا ينجس» “) بفتح الجيم أي: لا يصير عينه نجسا …… وفي شرح السنة: فيه جواز مصافحة الجنب ومخالطته، وهو قول عامة العلماء، وافقوا على طهارة عرق الجنب ومخالطته، وفيه دليل على جواز تأخير الاغتسال للجنب، وأن يسعى في حوائجه، قال القاضي رحمه الله: ويمكن أن يحتج به من يقول الحدث نجاسة حكمية، وأن من وجب عليه وضوء أو غسل فهو نجس حكما، وفيه أنه لو لم يكن نجس حكما لما حكم عليه بالطهارة. فقوله: لا ينجس أي: حقيقة لا حكما، أو ظاهرا، أو باطنا
ہندیہ (1/16) میں ہے:
ولا بأس للجنب أن ينام ويعاود أهله قبل أن يتوضأ وإن توضأ فحسن وإن أراد أن يأكل أو يشرب فينبغي أن يتمضمض ويغسل يديه. كذا في السراج الوهاج.
شامی (1/293) میں ہے:
لكن قال في الخلاصة: إذا أراد الجنب أن يأكل فالمستحب له أن يغسل يديه ويتمضمض
خیر الفتاویٰ (2/141) میں ہے:
سوال: عورت کی حالت حیض کی جنابت اور بعد الوطی قبل الاغتسال کی جنابت یکساں ہیں یا کوئی فرق ہے عورت بعد الوطی قبل الغسل وقت تنگ میں کھانا وغیرہ پکا سکتی ہے یا نہیں ؟ اور اگر پکا لے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟ حلال ہے یا نہیں ؟ اسی طرح عورت جیسے حالت حیض میں بچے کو دودھ پلاتی رہتی ہے بعد الوطی قبل الغسل اگر بچہ اٹھ پڑے اور روئے تو اس کو اٹھا کر دودھ پلا سکتی ہے یا نہیں ؟
جواب: حالت جنابت میں کھانا پکانے اور بچے کو دودھ پلانے کی شرعا اجازت ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے وضو کر لے۔
احسن الفتاویٰ ( 2 / 36 ) میں ہے :
سوال : حالت جنابت میں عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے اور کھانا وغیرہ پکا سکتی ہے؟
جواب : دودھ پلا سکتی ہے اور کھانا وغیرہ بھی پکا سکتی ہے۔
فتاویٰ مفتی محمود ( 1 / 424 ) میں ہے :
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک آدمی اپنی گھر والی کے ساتھ جماع کرتا ہے اور دوران جماع بچہ اس کا روتا ہے یا ایک بار جماع کر لیا دوسری بار کرنے کا ارادہ ہے اب بچے نے رونا شروع کر دیا تو کیا اس حالت میں یعنی جماع میں یا جنابت میں دودھ پلانا بچے کو جائز ہے یا نہ یا تیمم کر کے پلا دے ؟
جواب : دودھ پلانا بغیر غسل اور بغیر وضو اور تیمم کے جائز ہے۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ( 1 / 199) میں ہے :
سوال: بہ حالت جنابت کار ہائے دنیوی سر انجام دینے کیسے ہیں ؟ جنبی عورت اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب : درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved