- فتوی نمبر: 36-250
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا صدقے کا گوشت گھر میں کھانے کے لیے رکھا جا سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
گوشت کا صدقہ بنتا ہی اس وقت ہے جب غریب کے پاس جائے، اس سے پہلے صدقہ نہیں بنتا اس لیے اگر آپ نے صدقہ کرنا ہے تو گوشت گھر میں نہ رکھیں غریبوں کو دیدیں۔
المبسوط للسرخسی (12/ 92) میں ہے:
«(الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع، وغير المشاع، وحاجتها إلى القبض)،»
ہندیہ (4/ 406) میں ہے:
«الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع وغير المشاع وحاجتها إلى القبض»
المبسوط للسرخسی (12/ 68) میں ہے:
«تمام الصدقة بالقبض كالهبة»
المبسوط للسرخسی (3/83) میں ہے:
«فإن أحصر في الحج المظنون فتحلل بالهدي فقد اختلف فيه مشايخنا منهم من يقول لا يلزمه قضاء شيء؛ لأنه تم خروجه من الأحرام والأصح أنه يلزمه القضاء؛ لأن الإحرام في الأصل لازم والتحلل بالإحصار لدفع الحرج والمشقة عنه ففيما وراء ذلك تبقى صفة اللزوم معتبرة بخلاف الصدقة؛ لأنها تمت بالوصول إلى الفقير فوزانه ما لو أتم الصوم ثم تبين أنه ليس عليه وفي هذا لا يمكنه إبطاله»
آپ کے مسائل اور ان کا حل(5/208) میں ہے:
سوال: ایک آدمی صدقے میں بکرا ذبح کرتا ہے اور وہ گوشت آس پاس پڑوسیوں میں بانٹتا ہے آیا وہ گوشت گھر میں کھلا سکتا ہے یا نہیں؟ ………….
جواب: بكر ا ذبح كرنے سے صدقہ نہیں ہوتا بلکہ فقراء ومساکین کو دینے سے صدقہ ہوتا ہے اس لیے جتنا گوشت محتاجوں کو تقسیم کردیا اتنا صدقہ ہوگیا اور جو گھر میں کھالیا وہ نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved