- فتوی نمبر: 37-69
- تاریخ: 17 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > وکالت
استفتاء
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، کمپنی کے کارڈ سے اگر کوئی کمپنی کی دوکان سے چیز خریدے تو 100 روپے میں 20 روپے کا ڈسکاؤنٹ ملتا ہے تو مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ اگر کوئی محلہ والا مجھے کمپنی سے چیز خریدنے کا کہہ دے تو میں اس کو بتائے بغیر ڈسکاؤنٹ والے پیسے رکھ سکتا ہوں؟
تنقیح : اس بارے میں کچھ جگہوں سے عرف معلوم کیا گیا ہے اس کے مطابق جب کمپنی اپنے ملازموں کو کارڈ یا ویسے ہی ڈسکاؤنٹ کی آفر دے تو عرفا ملازم کو اپنے لیے، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے لینے کی اجازت ہوتی ہے کمپنی (مالک)کو پتہ بھی چل جائے تو اس کا تحمل کیا جاتا ہے البتہ کوئی شخص کمپنی سے خرید کر بازار میں نفع رکھ کر بیچنے لگ جائے اور اسے کاروبار کا ذریعہ بنا لے تو اس کی اجازت نہیں ہوتی ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ اس محلے والے کو بغیر بتائے وہ ڈسکاؤنٹ خود نہیں رکھ سکتے اور بتانے سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے یہ بھی بتایا جائے کہ میں اس پر کمیشن لوں گا اور مقدار بھی بتائے کہ کتنی کمیشن لوں گا، نیز یہ بھی اس صورت میں ہے جب ایک آدھ دفعہ کسی قریبی کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے ، اسے کاروبار کی شکل بنانا جائز نہیں۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں سائل کی حیثیت خریداری کے وکیل کی بنے گی اور وکیل کے حق میں ڈسکاؤنٹ موکل کے حق میں ڈسکاؤنٹ شمار ہوتا ہے چنانچہ مذکورہ صورت میں وہ ڈسکاؤنٹ اصلاً چیز منگوانے والے کا شمار ہو گا لہذا سائل کے لیے بغیر بتائے وہ رکھنا جائز نہیں، اور بتانے کی صورت میں سائل اس محلہ والے کا اجیر بن جائے گا لہذا اس کے لیے وہ ڈسکاؤنٹ اجرت کے طور پر لینا جائز ہو گا۔
المحیط البرہانی (65/15) میں ہے:
وان حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فانه يحط عن المؤكل ذلك
شامی (5/6) میں ہے:
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved