• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام خواجہ زید  ہے میں اپنے والد محترم بکر مرحوم کی وراثت کی تقسیم کے بارے میں فتوی لینا چاہتا ہوں، میرے والد محترم نے میری والدہ  فاطمہ (بیوہ) سے شادی کی جن کے پچھلے شوہر سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا، میرے والد میں سے ہم چار بھائی ہیں، والد صاحب کا انتقال 1997 میں ہوا اور اس کے بعد  پراپرٹی خریدی گئی، والدہ محترمہ نے یہ پراپرٹی اپنے نام کروائی کیونکہ اس وقت ہم سب چھوٹے تھے، اور اس کی وراثت نہیں کروائی گئی، جس وقت یہ پلاٹ خریدا گیا اس میں میرے والد صاحب کی گریجویٹی اور میرے والد صاحب کی طرف کی پراپرٹی کا حصہ جو دادکوں کی طرف سے ملا تھا اس میں شامل کیا گیا اس وقت پراپرٹی کی قیمت 16 لاکھ روپے تھی جس میں 5 لاکھ میرے والد مرحوم کی طرف سے شامل کیے گئے، 7 لاکھ روپے میری والدہ کا گھر بیچ کر شامل کیے گئے یہ گھر میری والدہ کا ذاتی تھا جو انہوں نے اپنا ذاتی زیور بیچ کر خریدا تھا، اور 4لاکھ روپے میرے حقیقی بھائی  خالد نے شامل کیے، پلاٹ خریدنے کے بعد اس پر تعمیر کی گئی جس میں میرے حقیقی بھائیوں نے والدہ کا ساتھ دیا ساڑھے 6 لاکھ روپے میرے بھائی خالد ، 5 لاکھ عمر ،  5 لاکھ واجد نے دیے،اور میرے ماں شریک بھائی ضیاء اور ماں شریک بہن  زینب نے ایک ایک لاکھ روپے کی شرکت کی،  ملحوظ رہے کہ یہ رقم سب نے شرکت کے طور پر دی تھی، قرض یا ہبہ نہیں تھی، سوتیلے بہن بھائی بھی ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے، یہ 9 لاکھ روپے میری والدہ کی حیات میں تعمیر کے لیے دیے گئے، اور ساڑھے 13 لاکھ روپے میری والدہ کی وفات کے بعد تعمیر پر خرچ کیے گئے جن میں سے عمر نے 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور واجد نے 11 لاکھ روپے دیے، اس طرح مکمل تعمیر کی رقم  23 لاکھ روپے خرچ ہوئی اور مکان کو مکمل کیا گیا، مکان مکمل ہونے کے بعد 2011 میں میرے ماں شریک بھائی کا انتقال ہو گیا اور 2012 میں میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ، مکان کی موجودہ مکمل مالیت 2 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے، جس میں سے زمین کی موجودہ مالیت 1 کروڑ 90 لاکھ روپے اور تعمیر کی موجودہ  قیمت 50 لاکھ روپے ہے۔  ہمیں اس مکان کے بارے میں شریعت کی رو سے فتوی درکار ہے (1) کہ اس مکان میں کس کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟ (2) ہماری والدہ کی جائیداد میں سے ہمارے ماں شریک بہن بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

تنقیح:والد اور والدہ دونوں کے والدین ان کی وفات سے پہلے فوت ہو چکے تھے، ماں شریک بھائی کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، نیز میرے والد کی گریجویٹی میں سے حقیقی بھائی واجد نے 1 لاکھ روپے اور  ماں شریک بھائی  ضیاء  نے  50 ہزار روپے قرض لیے جو ابھی تک ان دونوں کے ذمے باقی ہے۔

والدہ کی زندگی میں دی گئی تعمیراتی رقم

حصہ داررقمفیصدی تناسبموجودہ ویلیو
خالد  (حقیقی بھائی)65000028.26%1413043
ضیاء (سوتیلا بھائی)1000004.34%217391
زینب   (سوتیلی بہن)1000004.34%217391
عمر  (حقیقی بھائی)500002.17%108696
واجد  (حقیقی بھائی)500002.17%108696

والدہ کی وفات کے بعد دی گئی تعمیراتی رقم

حصہ داررقمفیصدی تناسبموجودہ ویلیو
واجد  (حقیقی بھائی)110000047.82%2391304
عمر  (حقیقی بھائی)25000010.87%543478
ٹوٹل2300000100.00%5000000

پلاٹ کی خریداری کی رقم

حصہ داررقمفیصدی تناسبموجودہ ویلیو
والدہ کی رقم70000043.75%8312500
والد کی رقم50000031.25%5937500
خالد  (حقیقی بھائی)40000025.00%4750000
ٹوٹل1600000100.00%19000000

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں تعمیر کی موجودہ قیمت (5000000) میں سے خالد  کو  (28.26%) ، ضیاء  کو (4.34%)، زینب  کو  (4.34%)، عمر  کو (2.17%)+ (10.87%) = (13.04%)، اور واجد  کو (2.17%)  + (47.82%)   = (49.99%) ملیں گے،  پھر واجد  کے حصے میں سے 1 لاکھ روپے اور  ضیاء کے حصے میں سے 50 ہزار روپے نکال کر والد مرحوم کے ترکے میں شامل کیے جائیں گے، زمین کی موجودہ قیمت (19000000) میں سے  خالد  کو (25.00%) ، آپ کی والدہ کو (43.75%) اور آپ کے والد کو (31.25%) ملیں گے۔

(2)آپ کے والد  مرحوم کے ترکے (31.25%)+150000 روپے کے 32 حصے کیے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 4 حصے (12.5%) ، 4 بیٹوں میں سے ہر  ایک بیٹے کو 7 حصے (21.87 %) ملیں گے، اور سوتیلے بیٹی، بیٹے کو کچھ نہیں ملے گا۔

(3)آپ کے سوتیلے بھائی  کے  ترکے (4.34%) میں سے 50000 روپے قرض نکالنے کے بعد باقی   رقم کے 120 حصے کیے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 15 حصے (12.5%) ،  مرحوم کی والدہ کو 20 حصے (16.66%) ، بیٹے کو 34 حصے (28.33 %)    اور ہر ایک بیٹی کو 17 حصے (14.16 %)  ملیں گے۔

(4)آپ کی والدہ  کے ترکے( مکان کا حصہ، شوہر سے ملنے والا حصہ اور بیٹے سے ملنے والا حصہ) کے 9 حصے کیے جائیں گےجن میں سے ہر  ایک بیٹے کو 2حصے (22.22 %) اور   بیٹی کو 1 حصہ (11.11%)  ملے گا۔ آپ کے سوتیلے بھائی (ضیاء ) کو والدہ کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved