- فتوی نمبر: 32-201
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص فوت ہوا اس کے ورثاء میں 5 بیٹے ، تین بیٹیاں اور بیوی تھی، پھر ایک بیٹا فوت ہوا اس کے ورثاء میں چار بیٹیاں، چار بھائی، تین بہنیں، بیوی اور والدہ تھی۔کیا ایسی صورت میں مرحوم بیٹے کی بیٹیوں اور بیوی کو میراث میں سے حصہ ملے گا؟ اگر ملے گا تو کتنا ؟جبکہ صورت حال یہ ہے کہ دادا کی میراث تقسیم ہورہی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
میراث کی تقسیم میں شریعت کا یہ ضابطہ ہے کہ میت کی وفات کے وقت اس کے جو ورثاء زندہ ہوتے ہیں ان سب کو میت کے ترکہ میں سے حصہ ملتا ہے اگرچہ بعد میں تقسیم سے پہلے ان ورثاء میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو وہ پھر بھی ترکہ سے محروم نہیں ہوگا اور مذکورہ صورت میں چونکہ میت کا وہ بیٹا جو بعد میں فوت ہوا وہ والد کی وفات کے وقت زندہ تھا لہٰذا اس کو میراث سے حصہ ملے گا اور اس بیٹے کا حصہ اس کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا لہٰذا اس بیٹے کی بیٹیوں اور بیوی کو بھی حصہ ملے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ کے والد مرحوم کی کل جائیداد کے 13728 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2024 حصے (14.74 فیصد) میت کی بیوہ کو،1862 حصے (13.56فیصد) میت کے ہر ایک زندہ بیٹے کو، 931 حصے (6.78 فیصد) میت کی ہر ایک بیٹی کو، 308 حصے (2.24 فیصد) فوت شدہ بیٹے کی ہر ایک بیٹی کو اور 231 حصے (1.68 فیصد) میت کے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ کو ملیں گے۔
شامی(10/543) میں ہے:
ان شرط الارث وجود الوارث حيا عند موت المورث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved