- فتوی نمبر: 36-170
- تاریخ: 31 اگست 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
اگر کسی گاؤں سے پورے گاؤں والے منتقل ہو جائیں اور اس گاؤں کی مسجد میں اضافی سامان ہو جس کے ضائع ہونے کا اندیشہ تو اس اضافی سامان کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز ہے ؟
وضاحت مطلوب ہے: یہ معلوماتی سوال ہے یا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟
جواب وضاحت: واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ افغانستان کے لوگوں نے جب ہجرت کر کے یہاں اپنی بستیاں قائم کیں اس کے ساتھ ہی مساجد بھی آباد کیں۔ اب قانون کی سختی کی وجہ سے جب افغانیوں کو اس ملک سے نکالا جا رہا ہے تو وہ ساری بستیاں خالی اور ان کی مسجدیں ویران ہو رہی ہیں۔ اس صورت میں مسجد کے سامان سے متعلق سوال ہے کہ آیا اس کو بستی والے اپنے ساتھ دوسرے ملک منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مساجد کے ویران ہونے کی وجہ سے اگر ان کے اضافی سامان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو ایسے سامان کو کسی دوسری مسجد میں دے دیا جائے اور اگر قریبی مسجد میں ضرورت نہ ہو تو اس کو یہ لوگ اپنے ساتھ بھی لے جاسکتے ہیں بشرطیکہ وہاں جا کر بھی اسے کسی مسجد میں ہی استعمال کریں اپنے ذاتی استعمال میں نہ لائیں ۔یہ حکم اس سامان سے متعلق ہے جس کا مالک معلوم نہ ہو اور جس کا مالک معلوم ہو تو اس میں اختیار ہے کہ وہ سامان مالک خود لے لے یا اسے کسی دوسری مسجد میں استعمال کرلیا جائے ۔
توجیہ : مسجد اگر ویران ہوجائے تو اس کے سامان کا کیا کیا جائے ؟ اس بارے میں فقہاء احناف میں سے امام ابویوسف ؒ اور امام محمد ؒ میں اختلاف ہے ۔ امام محمد ؒ کے نزدیک یہ سامان واقف کی ملکیت میں واپس چلا جائے گا جبکہ امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک کسی قریبی مسجد میں دے دیا جائے گا ۔ اگر چہ صاحب بحر اور صاحب خانیہ کی تصریح کے مطابق فتوی امام محمد ؒ کے قول پر ہے تاہم امام ابویوسف ؒ کا قول بھی اکثر مشائخ کا اختیار کردہ ہے( بحوالہ بحر الرائق) اور ابن ہمام ؒ نے اس کو ترجیح بھی دی ہے اسی طرح علامہ شامی بھی اسی پر فتوی دیتے تھے اس لیے جس سامان کا مالک معلوم نہ ہو وہاں امام محمد ؒ کے قول پر عمل ممکن نہیں لہٰذا مالک معلوم نہ ہونے کی صورت میں امام ابو یوسف ؒ کے قول پر عمل متعین ہے اور جس سامان کا مالک معلوم ہو اس میں امام محمد ؒ کے قول پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے اور امام ابویوسف ؒ کے قول پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں قولوں پر اہل علم کا فتویٰ موجود ہے۔
درمختار مع ردالمحتار (4/ 358) میں ہے:
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي (وعاد إلى الملك) أي ملك الباني أو ورثته (عند محمد) وعن الثاني ينقل إلى مسجد آخر بإذن القاضي (ومثله) في الخلاف المذكور (حشيش المسجد وحصره مع الاستغناء عنهما و) كذا (الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر) والحوض (إلى أقرب مسجد أو رباط أو بئر) أو حوض (إليه) …….
قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد وعند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، وعلى هذا الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بها اهـ وصرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اه. (قوله: تفريع على قولها) أي قوله فيصرف إلخ مفرع على الإمام وأبي يوسف: أن المسجد إذا خرب يبقى مسجدا أبدا لكن علمت أن المفتى به قول أبي يوسف، أنه لا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر كما مر عن الحاوي: نعم هذا التفريع إنما يظهر على ما ذكره الشارح من الرواية الثانية عن أبي يوسف
ردالمحتار (4/ 359) میں ہے:
وقد وقعت حادثة سئلت عنها في أمير أراد أن ينقل بعض أحجار مسجد خراب في سفح قاسيون بدمشق ليبلط بها صحن الجامع الأموي فأفتيت بعدم الجواز متابعة للشرنبلالي، ثم بلغني أن بعض المتغلبين أخذ تلك الأحجار لنفسه، فندمت على ما أفتيت به، ثم رأيت الآن في الذخيرة قال وفي فتاوى النسفي: سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها إلى الخراب، وبعض المتغلبة يستولون على خشبه، وينقلونه إلى دورهم هل لواحد من أهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي، ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد؟ قال: نعم ….
البحر الرائق (5/ 272) میں ہے:
«وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه قال وأما الحصر والقناديل فالصحيح من مذهب أبي يوسف أنه لا يعود إلى ملك متخذه بل يحول إلى مسجد آخر أو يبيعه قيم المسجد للمسجد»
فتح القدير (6/ 237) میں ہے:
وأما الحصير والقنديل فالصحيح من مذهب أبي يوسف أنه لا يعود إلى ملك متخذه بل يحول إلى مسجد آخر أو يبيعه قيم المسجد للمسجد، ولأنه ما جعله مسجدا ليصلي فيه أهل تلك المحلة لا غير بل يصلي فيه العامة مطلقا أهل تلك المحلة وغيرهم.»
منحۃ الخالق علی البحر الرائق (5/272) میں ہے :
والصحيح أنه لا يجوز بيعهم إلا بإذن القاضي فإن لم يكن هناك قاض جاز بيعهم أقول: قوله والصحيح أنه لا يجوز إلخ قال بعض المتأخرين الصحيح أنه يجوز بغير إذن لما علم من فساد قضاة هذا الزمان فإنه ربما باعه القاضي وأكل ثمنه وقد شاهدنا منهم ما هو أعظم من هذا ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم
امداد الفتاوی جدید (6/30) میں ہے :
اگر کسی مسجد کی جائداد موقوفہ کی آمدنی اُس کے مصارف سے بہت بڑھ جاوے کہ سالہا سال بھی اُس مسجد میں اُس کی ضرورت محتمل نہ ہو تو ایسی صورت میں اُس آمدنی کو دوسری مساجد کی تعمیر یا امام و مؤذن کی تنخواہ یا دیگر مصارفِ خیر میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ مشرّح و مدلل ارشاد ہو۔ بینوا توجروا
الجواب: في الدرالمختار۔ ومثله حشیش المسجد وحصیره مع الاستغناء عنها وکذا الرباط والبئر إذا لم ینتفع بهما فیصرف وقف المسجد والرباط والحوض إلى أقرب مسجد أو رباط أو بئر أوحوض إليه الخ.
وفي رد المحتار: لف ونشرمرتب فظاهره أنه لایجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض وعکسه وفي شرح الملتقی یصرف وقفها لأقرب مجانس لها.
قلت: وهذه الرواية وإن کانت منقولة في صورۃ خراب المسجد وغیره؛ لکن ما کان مبنی الحکم الاستغناء کان الحکم عاما وإن لم یخرب وهذا ظاهر عندی.
اس سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں اُس آمدنی کو دوسری مساجد میں بھی صرف کرسکتے ہیں ؛ لیکن اس ترتیب سے کہ اوّل اقرب مساجد میں اور اگر اُس میں ضرورت نہ ہو تو پھر اسی طرح اقرب فالاقرب میں ۔
احسن الفتاوی(6/451) میں ہے :
مسجد کو کسی حال میں بھی منتقل کرنا جائز نہیں ہے جو جگہ ایک بار مسجد بن گئی وہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی بالفرض مسجد ویران ہو جائے اور کوئی نماز پڑھنے والا بھی وہاں نہ رہے تو بھی اس کا ابقاء واجب ہے البتہ ویران مسجد کے سامان پر خطرہ ہو تو اس کو دوسری قریب تر مسجد کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved