- فتوی نمبر: 37-42
- تاریخ: 11 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
زیدصاحب بلڈنگ مٹیریل( اینٹ ،بجری ، سیمنٹ ) وغیرہ کا کاروبار کر رہے ہیں۔ خالد اس کاروبار میں شرکت مندرجہ ذیل طریقے سے کرنا چاہتے ہیں کہ (1)زید صاحب ، خالد کی رقم سے سامان تجارت خریدیں گے اور پھر فروخت کریں گے جس محنت کے عوض وہ منافع میں 50 فیصد شرح سے شریک ہوں گے (2) اور اگر کچھ نہ خریدا اور خرید کر فروخت نہ کر سکے یا منافع نہ ہو سکے تو زید کو کچھ مزدوری نہیں ملے گی، صحیح طریقے سے خرید وفروخت کرنا زید کی ذمہ داری ہوگی تاکہ خالد کی رقم اور سامان کی حفاظت ہو سکے ۔(3) ایک مرتبہ سامان فروخت کر کے رقم واپس ملنے پر دوبارہ جلد ہی کاروباری خرید و فروخت میں رقم لگائی جا سکے تاکہ معقول منافع ہو سکے، زید صاحب اس کی دیانتداری سے کوشش کریں گے ۔ اگر زیدصاحب خالد صاحب کے لیے خریداری کرنے جائیں گے تو چونکہ وہ اپنا کام بھی پہلے سے کررہے ہیں تو دونوں کا سامان کا ایک ہی جگہ سے خریدا جائے گا اور ایک ہی گاڑی میں ڈالا اور رکھا جائے گا کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ عام حالت میں دونوں فریق اپنے اپنے پیسے ملا کر خریداری کریں گے لیکن کبھی ایسا بھی ہوگا کہ فریق دوم یعنی زید کے پاس اپنے لیے خریداری کا سرمایہ نہیں ہوگا تو وہ صرف خالد کی رقم سے خالد کے لیے ان کے مزدور اور وکیل کے طور پر خریداری کریں گے۔ یہ مضاربت نہیں کبھی خالد کام کی جگہ جا سکتے ہیں کام میں حصہ لے سکتے ہیں یا حساب کتاب کر سکتے ہیں۔ بجری سیمنٹ کے علاوہ موبائل وغیرہ میں باہمی مشاورت سے رقم لگائی جا سکتی ہے جس وقت ایک ٹرانزیکشن (سودا ) مکمل ہوگی تو زید صاحب تمام پیسہ بمع منافع کے دینے کے پابند ہوں گے۔ دوسری صورت میں باہمی مشاورت سے ایک مہینے کا وقت بھی دیا جا سکتا ہے واپسی کے لیے۔
ہر ایک کاروباری لین دین سے مکمل آگاہی دستاویزی رسید ثبوت کے طور پر مہیا کرنا زید کی ذمہ داری ہوگی ۔
وضاحت مطلوب ہے: “آپ زید صاحب کے ساتھ کام میں شریک ہو سکتے ہیں” اس کا مطلب کیا ہوگا؟ یعنی آپ صرف حساب کتاب کی اجازت چاہتے ہیں یا کام خود بھی کرنا چاہتے ہیں؟ اور وہ کس قسم کا کام ہوگا؟
جواب وضاحت : محترم اس سے مراد یہ ہے کہ کسی وقت وہ مجھے کہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں مثلا جہاں سے اینٹیں اور سیمنٹ وغیرہ ملتا ہے ،آپ بھی دیکھ لیں کہ میں کیسے خریدتا ہوں تو میں ان کے ساتھ چلا گیا ۔
حساب کتاب کا مطلب یہ ہے کہ زید صاحب کہتے ہیں کہ فلاں جگہ میری دکان ہے یا میرے گھر آجائیں حساب کتاب بھی دیکھ لیں۔
زید صاحب کہتے ہیں کہ میں سامان فروخت کرنے جا رہا ہوں فلاں جگہ پارٹی آئے گی اس سے بات چیت چلے گی آپ بھی دیکھ لیں کہ معاملہ کیسے ہوتا ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ چلیں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا آپ بات کرنا چاہیں تو آپ بھی بات کریں کہ کیسے بات کرتے ہیں یعنی کیسے خریدو فروخت ہوتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت جائز ہے ، تاہم خالد صاحب کے یہ کہنے کے باوجود کہ “یہ مضاربت نہیں” یہ مضاربت کی ہی صورت ہے جس کے پیش نظر اگرچہ خالد صاحب حساب کتاب تو لے سکتے ہیں تا ہم کام (خرید و فروخت) میں زید صاحب کی اجازت اور رضامندی کے بغیر مداخلت نہیں کر سکتے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ خالد صاحب پر عمل کرنے کی شرط نہیں ہے اس لیے جس صورت میں دونوں کا مال ہوگا اس صورت میں زید صاحب اپنے مال کی حد تک اصیل ہوں گے اور خالد صاحب کے مال کی حد تک مضارب ہوں گے جس صورت میں صرف خالد صاحب کا مال ہوگا اس صورت میں خالد صاحب رب المال ہوں گے اور زید صاحب مضارب ہوں گے اور مضاربت میں رب المال حساب کتاب تو لے سکتا ہے لیکن مضارب کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کام (خرید و فروخت ) میں مداخلت نہیں کر سکتا ۔نیز چونکہ عقود میں اصل اعتبار معنیٰ کا ہوتا ہے الفاظ کا اعتبار نہیں ہوتا ۔لہٰذا خالد صاحب کے اس کہنے کے باوجود کہ “یہ مضاربت نہیں ” مذکورہ عقد مضاربت سے نہیں نکلے گا۔
شرح المجلہ (المادۃ:144) میں ہے:
المضاربة نوع شركة على أن رأس المال من طرف والسعى والعمل من طرف آخر
شامی (6/491) میں ہے:
وفيه: وتفرع على كونه أمانة ما سئل قارئ الهداية عمن طلب محاسبة شريكه فأجاب لا يلزم بالتفصيل
ومثله المضارب والوصي والمتولي نهر، وقضاة زماننا ليس لهم قصد بالمحاسبة إلا الوصول إلى سحت المحصول
(قوله ومثله المضارب والوصي والمتولي) سيذكر الشارح في الوقف عن القنية أن المتولي لا تلزمه المحاسبة في كل عام ويكتفي القاضي منه بالإجمال لو معروفا بالأمانة ولو متهما يجبره على التعيين شيئا فشيئا، ولا يحبسه بل يهدده؛ ولو اتهمه يحلفه. اهـ.
والظاهر أنه يقال مثل ذلك في الشريك والمضارب والوصي فيحمل إطلاقه على غير المتهم: أي الذي لم يعرف بالأمانة
شامی (5/65) میں ہے:
(واشتراط عمل رب المال مع المضارب مفسد) للعقد؛ لأنه يمنع التخلية فيمنع الصحة
بدائع الصنائع (6/85) میں ہے:
وكذا لو شرط في المضاربة عمل رب المال، فسدت المضاربة سواء عمل رب المال معه أو لم يعمل؛ لأن شرط عمله معه شرط بقاء يده على المال، وإنه شرط فاسد.
ولو سلم رأس المال إلى رب المال ولم يشترط عمله، ثم استعان به على العمل أو دفع إليه المال بضاعة جاز؛ لأن الاستعانة لا توجب خروج المال عن يده، وسواء كان المالك عاقدا أو غير عاقد لا بد من زوال يد رب المال عن ماله؛ لتصح المضاربة،
ہدایہ (3/209) میں ہے:
فإن دفع شيئا من مال المضاربة إلى رب المال بضاعة فاشترى رب المال وباع فهو على المضاربة أى لم تبطل المضاربة ………. ولنا أن التخلية فيه قد تمت وصار التصرف حقا للمضارب فيصلح رب المال وكيلا عنه في التصرف والإبضاع توكيل منه فلا يكون استردادا، بخلاف شرط العمل عليه في الابتداء لأنه يمنع التخلية.
شرح المجلہ (المادۃ:30) میں ہے:
العبرة في العقود للمقاصد والمعانى لا للالفاظ والمباني
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved