- فتوی نمبر: 32-346
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک پر روزانہ 70ہزارفرشتے حاضری دیتے ہیں جوصبح سے شام تک ہوتے ہیں وہ صلوۃ و سلام پڑھتے ہیں اس کے بعد مغرب کے وقت دوسرےفرشتے آتے ہیں جوصبح تک رہتے ہیں جو فرشتےایک دفعہ آتے ہیں پھر وہ دوبارہ نہیں آتے “کیا اس بارے میں کوئی حدیث ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ مضمون کے بارے میں حدیث ہے جو بمع ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔البتہ یہ بات کہ “جو فرشتے ایک دفعہ آتے ہیں پھر وہ دوبارہ نہیں آتے” تلاش کے باوجود نہیں مل سکی۔
الزہد والرقائق ،لابن المبارك، ت181ھ (ص558)میں ہے:
حدثنا الحسين، أخبرنا ابن المبارك، أخبرنا ابن لهيعة، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن نبيه بن وهب، عن كعب الأحبار قال: ذكروا النبي صلى الله عليه وسلم، عند عائشة، فقال كعب: ما من فجر يطلع إلا هبط سبعون ألف ملك، يضربون القبر بأجنحتهم، ويحفون به، فيستغفرون له وأحسبه قال: ويصلون عليه حتى يمسوا، فإذا أمسوا عرجوا، وهبط سبعون ألف ملك، يضربون القبر بأجنحتهم، ويحفون به، ويستغفرون له وأحسبه قال: ويصلون عليه حتى يصبحوا، وكذلك حتى تكون الساعة، فإذا كان يوم القيامة خرج النبي صلى الله عليه وسلم في سبعين ألف ملك
ترجمہ: حضرت کعب احبارؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اہل مجلس نے آپﷺ کا حضرت عائشہؓ کے پاس ذکر کیا پھر حضرت کعب احبار ؓ نے فرمایا کہ ہر روز صبح سویرے ستر ہزار ملائکہ (آسمان سے زمین پر اُترتے ہیں، وہ اپنے پر ( تبرکا حضور ﷺکی ) قبر انور سے مس کرتے اور اُسے ڈھانپ لیتے ہیں، پھر آپ ﷺکے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ کہا کہ وہ آپ ﷺپر درود بھیجتے ہیں یہاں تک کہ انہیں (اسی حالت میں ) شام ہو جاتی ہے اور جب شام ہوتی ہے تو وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور پھر (اسی طرح دوسرے ستر ہزار ملائکہ آتے ہیں، جو اپنے پر ( تبرکا آپ ﷺکی قبر انور سے مس کرتے اور اُسے ڈھانپ لیتے ہیں، ، پھر آپ ﷺکے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں ، اور میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ کہا کہ وہ آپ ﷺپر درود بھیجتے ہیں، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) صبح کرتے ہیں اور اسی طرح قیامت تک ( ملائکہ کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، پھر جب قیامت کا دن آئے گا تو حضور ﷺ قبر انور سے باہر تشریف لائیں گےاس حال میں کہ آپ ﷺکےساتھ ستر ہزار فرشتے ہونگے۔
مسند الدارمی، للدارمی، ت255ھ(1/ 228)میں ہے:
حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني خالد هو ابن يزيد، عن سعيد هو ابن أبي هلال، عن نبيه بن وهب، أن كعبا دخل على عائشة، فذكروا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كعب: ” ما من يوم يطلع إلا نزل سبعون ألفا من الملائكة، حتى يحفوا بقبر النبي صلى الله عليه وسلم يضربون بأجنحتهم، ويصلون على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا أمسوا، عرجوا وهبط مثلهم فصنعوا مثل ذلك حتى إذا انشقت عنه الأرض، خرج في سبعين ألفا من الملائكة يزفونه
مشكاة المصابيح، للتبریزی ت 740ھ (3/ 1678)میں ہے:
وعن نبيهة بن وهب أن كعبا دخل على عائشة فذكروا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كعب: ما من يوم يطلع إلا نزل سبعون ألفا من الملائكة حتى يحفوا بقبر رسول الله صلى الله عليه وسلم يضربون بأجنحتهم ويصلون على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا أمسوا عرجوا وهبط مثلهم فصنعوا مثل ذلك حتى إذا انشقت عنه الأرض خرج في سبعين ألفا من الملائكة يزفونه. رواه الدارمي
شعب الإيمان، للبیہقی ت458ھ(6/ 55)میں ہے:
قال وأخبرنا أبو بكر، حدثني محمد بن الحسين، حدثنا قتيبة بن سعيد، أخبرنا ليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن ابن أبي هلال، عن نبيه بن وهب، أن كعب الأحبار قال: ما من نجم فجر يطلع إلا نزل سبعون ألفا من الملائكة حتى يحفوا بالقبر يضربون باجنحتهم ويصلون على النبي صلى الله عليه وسلم حتى إذا أمسوا عرجوا وهبط مثلهم فصنعوا مثل ذلك حتى إذا انشقت الأرض خرج في سبعين ألفا من الملائكة يوقرونه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved