• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“نماز میں اگر وسوسہ آئے تو بائیں جانب تین بار تھوکنا چاہیے”کیایہ حدیث ہے؟

استفتاء

“نماز میں اگر وسوسہ آئے تو بائیں جانب تین بار تھوکنا چاہیے”کیا ایسی کوئی مستند حدیث موجود ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس بارے میں مستند حدیث موجود ہے، تاہم اس حدیث  میں تھوکنے سے پہلے اعوذ باللہ  پڑھنے کا بھی ذکر ہے۔

چنانچہ صحیح مسلم( رقم الحدیث :2203 ) میں ہے:

حدثنا يحيى بن خلف الباهلي، حدثنا عبد الأعلى، عن سعيد الجريري، عن أبي العلاء، أن عثمان بن أبي العاص، أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله ‌إن ‌الشيطان ‌قد ‌حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ذاك شيطان يقال له خنزب، فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه، واتفل على يسارك ثلاثا» قال: ففعلت ذلك فأذهبه الله عني

ترجمہ: حضرت عثمان بن ابوالعاص  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! شیطان میری نماز اور قرأت کے درمیان حائل ہوتا اور مجھ پر نماز میں شبہ ڈالتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان ہے جسے ’’خنزب‘‘  کہا جاتا ہے، جب تو ایسی بات محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کر اور اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دیا کر، پس میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ نے شیطان کو مجھ سے دور  کردیا۔

نوٹ: اگر نمازی  ایسی جگہ ہو جہاں تھوکنا  مناسب نہیں مثلاً مسجد تو ایسی جگہ صرف تھوکنے کی صورت بنالے تھوکے نہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved