- فتوی نمبر: 35-233
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
مسائل بہشتی زیور میں ہے کہ” اگر غفلت یا لا علمی کی وجہ سے کچھ دن گزر گئے تب بھی جب معلوم ہو اذان کہی جائے” اس کا حوالہ چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس کے حوالے مندرجہ ذیل ہیں:
مرقاۃ المفاتیح (7/75) میں ہے:
وعن أبي رافع رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي رضي الله عنهما حين ولدته فاطمة بالصلاة»
(حين ولدته فاطمة) : يحتمل السابع وقبله
فتاویٰ محمودیہ (5456) میں ہے:
سوال: بعض ملكوں میں قانون ہے کہ بچہ کو پیدائش کے بعد ایک کانچ کے صندوق میں رکھ دیتے ہیں، ہفتہ، عشرہ کے بعد بچہ کو دیتے ہیں ان ایام میں ماں ہسپتال میں رہتی ہے بچہ کو دیکھ تو سکتی ہے مگر چھو نہیں سکتی تو اس حالت میں ہفتہ عشرہ کے بعد اذان کہیں تو مضائقہ تو نہیں؟
جواب:مجبوری کے وقت اس کو مکان پر لا کر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہہ دی جائے۔
احسن الفتاویٰ (2/276) میں ہے:
سوال: نومولود کے کان میں اذان کہنے کا کیا کوئی وقت متعین ہے؟ اگر پہلےروز اذان نہیں کہی گئی تو کیا اس کے بعد بھی کہی جاسکتی ہے؟
الجواب: اس کے لیے وقت اور دن کی کوئی قید نہیں، حتیٰ الامکان جلد کہنا چاہیے، اگر غفلت میں کئی روز گزر گئے تو بھی تنبہ کے بعد اذان کہی جائے۔ عن أبي رافع رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي رضي الله عنهما حين ولدته فاطمة بالصلاة.
قال الملا علي القاري رحمه الله: (حين ولدته فاطمة) : يحتمل السابع وقبله
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
