• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پاکستان میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

استفتاء

مرکزی ہلال کمیٹی حکومت پاکستان کا تشکیل کردہ ادارہ ہے، جس کی ذمہ داریوں میں ہلال دیکھنا، اس کے متعلق شہادتیں وصول کرنا اور رمضان، عیدین و دیگر اسلامی مہینوں کے لیے رؤیت کا اعلان کرنا شامل ہے، ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے کچھ اضلاع میں بعض غیر سرکاری کمیٹیاں حکومتی کمیٹی کے علی الرغم لوگوں سے شہادتیں وصول کرتی ہیں اور رمضان و عیدین کا اعلان کرتی ہیں، ان حضرات کے اعلان کے بموجب ان علاقوں کے لوگ روزے رکھنا شروع کرتے ہیں اور عیدین مناتے ہیں، اس تناظر میں چند سوالات حل طلب ہیں:

1۔ کیا ریاست کی طرف سے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اور صوبائی و ضلعی سطح پر زونل سرکاری کمیٹیوں کے ہوتے ہوئے ایسے غیر سرکاری کمیٹیاں قائم کرنا جائز ہے؟ یہ حضرت جو عام لوگوں سے شہادتیں وصول کرتے ہیں اور ہلال عید و رمضان کا اعلان کرتے ہیں، کیا ان لوگوں کا اعلان شرعی قاضی کے اعلان کے حکم میں ہو گا؟ اگر نہیں تو ان کے لیے اس طرح اعلانات کرنا جائز ہیں یا نہیں؟ مزید برآں عام لوگوں کے لیے ان کے اعلان پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز کیا رؤیت ہلال کی شہادت قبول کرنے کے لیے دار القضاء شرط ہے یا نہیں؟

2۔ جن علاقوں میں ان غیر سرکاری کمیٹیوں کے اعلان پر اکثر لوگ روزہ رکھیں یا عید منائیں تو کسی فرد کے لیے اسی علاقے میں شخصی طور پر مرکزی حکومتی کمیٹی پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی مخالفت جائز ہے یا نہیں؟

3۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان حضرات کے اعلان کے حساب سے شوال کا مہینہ اکتیس دن کا ہو جاتا ہے، بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس دن یہ لوگ رؤیت کا اعلان کرتے ہیں اس کے ایک روز بعد بھی رؤیت نہیں ہو پاتی اور سرکاری کمیٹی عدم رؤیت کا اعلان کرتی ہے، تو ان کے اعلان پر جن لوگوں نے عید منائی ان پر قضا واجب ہے یا نہیں؟ اور جس دن انہوں نے عید منائی اس سے اگلے رات کی تراویح پڑھیں گے یا نہیں؟ اور ان کے لیے اگلے دن کے روزے کا شرعی حکم کیا ہے؟

4۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر تکبیرات تشریق مقامی کمیٹیوں کے اعلان سے شروع ہوں گے اور ختم ہوں گے یا حکومتی کمیٹی کے اعلان کے حساب سے شروع اور ختم ہوں گے؟ اسی طرح یوم عرفہ کا تعین سرکاری کمیٹی کے اعلان کے موافق ہو گا یا مقامی کمیٹی کے اعلان کے موافق؟ علاوہ ازیں ان حضرات کے اعلان کے مطابق حکومت کی مقرر کردہ کمیٹی کے اعلان سے ایک دن پہلے اگر کوئی قربانی کرے تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہو گا؟ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جب تک امیر المومنین یا گورنر قربانی نہ کرے تب تب تک کسی کی قربانی جائز نہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب شہر میں امیر المومنین نماز عید ادا کرے تب شہر والوں کے لیے قربانی کرنا جائز ہے اور دیہات میں طلوع صبح صادق کے بعد قربانی جائز ہے۔

(بحوالہ: تکملہ فتح الملہم: 3/ 14-310، جواہر الحدیث: 4/ 65-464،)

اسی طرح بعض اوقات اس صوبے کا گورنر مقامی کمیٹی کے اعلان کے مطابق نماز عید پڑھ لیتا ہے اور قربانی کر لیتا ہے تو کیا باقی صوبے کے لیے اس کی وجہ سے کوئی گنجائش پیدا ہو گی یا نہیں؟ معتبرات فقہ حنفی کی تصریحات کی روشنی میں مفصل جواب تحریر فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے شرعی نہیں۔

1۔ سرکاری اور غیر سرکاری کمیٹیاں مل کر رؤیت کا اہتمام کریں، اس کے لیے مسجد قاسم خان کی رؤیت کی مجوزہ تاریخ پر اہتمام کیا جائے۔

2۔ صوبہ سرحد کو اپنی رؤیت کا اختیار دیا جائے، باقی علاقوں کے لیے سرکاری کمیٹی کی رویت پر عمل کیا جائے، ایک دن کے آگے پیچھے ہونے سے سرکاری انتظامات میں زیادہ فرق نہیں ہو گا۔

آپ کے بھیجے ہوئے سوالات کا حل اسی صورت میں نکلتا ہے جب مذکورہ بالا دو میں سے کسی ایک صورت پر عمل کیا جائے۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved