• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

قبضہ سے پہلے مشاع پلاٹ کا بیچنا

استفتاء

محترم المقام حضرت مفتی صاحب حفظہ اللہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ایک ٹاؤن میں پلاٹ خریدا، جس کی کل رقم ادا کر دی گئی۔ ٹاؤن کے بانی نے کئی دفعہ زبانی و تحریری وعدہ پلاٹ دینے کا کیا، مگر 18 سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد وعدہ وفائی نہ ہوئی۔ اب کبھی وہ پلاٹ اور کبھی موجودہ قیمت پلاٹ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر وہ پلاٹ نہیں دیتا اور آج کل جو 5 مرلے پلاٹ کی قیمت ہے، دینا چاہتا ہے۔ تو کیا یہ رقم مثلاً 20/ 30 لاکھ روپے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اس وقت پلاٹ کی رقم ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا کی گئی تھی۔ اور اگر رقم نہیں لے سکتے، اور وہ پلاٹ بھی نہیں دیتا، تو اس معاملہ کی درستگی کی اور کونسی صورت ہو سکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ مذکورہ صورت میں "بائع” یعنی*** کے ساتھ یہ معاملہ کر سکتے ہیں کہ مذکورہ پلاٹ آپ اب انہیں کو 20/ 30 لاکھ روپے میں فروخت کر دیں۔

صح بيع عقار لا يخشی هلاكه قبل قبضه من بائعه. و في الشامية: قوله (من بائعه) متعلق بقبض، لا ببيع، لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد كما في المنقول.

قال الرافعي: قوله (لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد الخ) لا يظهر وجه فساد بيع العقار للبائع قبل قبضه و العلة المذكورة للفساد في المنقول، و هي الغرر غير متحققة في هذه المسئلة. (رد المحتار: 7/ 383) فقط و الله تعالی أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved