- فتوی نمبر: 36-202
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > قسم کے کفارہ کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص کے ذمے قسم کا کفارہ تھا اس نے دس مسکینوں کے بقدر کفارے کی جتنی رقم بنتی ہے وہ ایک شخص کو دے دی کہ اس کی طرف سے کفارہ ادا کردے اور یہ کہا کہ میں آپ کو مطلقا وکیل بناتا ہوں اگر آپ خود مستحق ہوں تو خود بھی رکھ سکتے ہیں اور آگے بھی جس کو مرضی دے سکتے ہیں ۔
تو آیا اس صورت میں وکیل وہ ساری رقم اس طرح رکھ سکتا ہے کہ دس دن تک اسے محفوظ رکھے اس نیت سے کہ وہ روزانہ اپنے آپ کو کفارہ ادا کر رہا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
رکھ سکتا ہے اور اس سے صرف ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوگا ۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ وکیل خود بھی مستحق ہے اس لئے وکیل خود بھی وہ رقم رکھ سکتا ہے لیکن اس سے موکل کا صرف ایک دن کا کفارہ ادا ہوگا کیونکہ مؤکل نے وہ رقم وکیل کو یکمشت ایک ہی دن قبضے میں دی ہے اور ایک مستحق کو ایک ہی دن میں اگر ایک دفعہ میں زیادہ رقم دی جائے تو وہ ایک دن کا کفارہ ہی شمار ہوگا۔
ہندیہ (1/513) میں ہے:
ولو أعطى مسكينا واحدا كله في يوم واحد لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهذا في الإعطاء بدفعة واحدة وإباحة واحدة من غير خلاف أما إذا ملكه بدفعات فقد قيل يجزيه
ہندیہ (2/62) میں ہے:
ولو أعطى مسكينا واحدا عشرة أثواب في مرة واحدة لم يجزئه كما في الطعام وإن أعطاه في كل يوم ثوبا حتى استكمل عشرة أثواب في عشرة أيام أجزأه كما في الطعام
شامی (2/73) میں ہے:
لا بد في كفارة الأيمان من عشرة مساكين، ولا يصح أن يدفع للواحد أكثر من نصف صاع في يوم للنص على العدد فيها
تحفۃ الفقہاء (2/342) میں ہے:
ولو أعطى مسكينا واحدا طعام عشرة في يوم واحد لم يجز لأن الله تعالى أمر بسد جوعة عشرة مساكين جملة أو متفرقا على الأيام ولم يوجد
امداد الفتاوی ٰ (2/180) میں ہے:
سوال: قسم کا کفارہ ایک دن میں ایک آدمی کو سب دے دیں تو درست ہے یا نہیں؟
جواب: پورا کفارہ یمین ایک کو دینا درست نہیں۔
فتاویٰ رحیمیہ (9/26) میں ہے:
سوال: قسم کے کفارہ میں گیہوں یا اس کی قیمت دس مسكينوں کے بجائے ایک ہی مسکین کو دینا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب: ایک شخص كو ایک ہی دن میں پورا کفارہ دینا صحیح نہیں، ہاں ایک مسکین کو دس دن تک صدقہ فطر کے برابر گیہوں یا اس کی قیمت دیتا رہے یا ایک مسکین کو صبح وشام دس دن تک کھلاتا رہے تو یہ صحیح ہے، کفارہ ادا ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved