• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قرآنی لفظ لکھے ہوئے کپڑے پہننے کا حکم

استفتاء

ٹریک سوٹ کی جیکٹ کی تصویر پر قرآن پاک کی ایک سورت (AL.ADIYAT)   کا نام لکھا ہوا ہے۔

1۔کیا  پیٹھ پر اس طرح لکھنا جائز ہے ؟

2۔یہ جیکٹ پہن کر باتھ روم میں جا سکتے ہیں ؟

3۔ اس جیکٹ کو دیگر کپڑوں مثلا پائجامَہ جرابیں وغیرہ کے ساتھ دھونے کا کیا حکم ہے؟

یہ تقریبا 350 جیکٹ ہیں  ۔شرعی طور پر احتیاطی تدابیر اور ممکن حد تک استعمال کی گنجائش کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔عام طور پر چونکہ یہ لفظ بطور نام یا علامت درج کیا جاتا ہے اس لیے جائز ہے۔

2۔جائز ہے ۔

3۔جائز ہے ۔

توجیہ: العادیات (Al.ADIYAT) عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں “دوڑنے والیاں” یہ لفظ اگرچہ قرآن میں بھی آیا ہے لیکن ہر جگہ اس کا قرآن کا جز ہونا لازمی نہیں اس لیے جہاں یہ لفظ کسی انسان یا کمپنی کے نام یا علامت کے طور پر استعمال ہو وہاں قران کا جز شمار نہیں ہوگا مزید یہ کہ جب اسے انگریزی (رومن)رسم الخط (Al.ADIYAT)  میں لکھا جاتا ہے تو اصل قرآنی صورت بھی باقی نہیں رہتی۔

الدر المختار (6/417) میں ہے:

‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية

(قوله ‌وجاز ‌التسمية ‌بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل

ہندیہ (5/323) میں ہے:

‌لا ‌بأس ‌بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم؛ لأن قصد صاحبه العلامة لا التهاون، كذا في جواهر الأخلاطي.

ہندیہ (5/323) میں ہے:

والتسمية ‌باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved