- فتوی نمبر: 26-160
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
”حدثنا محمد بن سليمان الأنباري، نا وكيع، عن شريك ، عن عاصم بن كليب، عن علقمة بن وائل، عن وائل بن حجر، قال: «أتيت النبي ﷺ في الشتاء فرأيت أصحابه يرفعون أيديهم في ثيابهم في الصلاة“
(ترجمہ) میں سردی کے موسم میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز میں (سردی کی وجہ سے) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے دیکھا۔
کیا یہ روایت صحیح ہے؟
وضاحت مطلوب: سوال کی غرض کیا ہے؟ کوئی خاص اشکال ہو تو اس کو کھول کر بیان فرمادیں۔
جواب وضاحت: سوال کی غرض یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین کے نزدیک اس حدیث کی حیثیت کیا ہے؟ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو بھی وضاحت درکار ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث صحیح ہے،تاہم اس حدیث میں جس رفع یدین کا ذکر ہے اس سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت کا رفع یدین ہے جس کی دلیل انہی صحابی ؓ کی دوسری روایت ہے جو ابوداؤد میں مذکورہ باب سے پہلے باب میں مذکور ہے اور بمع ترجمہ ذیل میں مذکور ہے سنن ابی داود (ابواب تفریع افتتاح الصلوٰۃ،باب رفع الیدین۔304/1،ط بشری)
”عن وائل بن حجر، قال: رأيت النبي ﷺ حين افتتح الصلاة رفع يديه حيال أذنيه، قال: ثم أتيتهم فرأيتهم يرفعون أيديهم إلى صدورهم في افتتاح الصلاة وعليهم برانس وأكسية“
(ترجمہ) حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے جب نماز شروع کی تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھائے۔ حضرت وائلؓ فرماتے ہیں کہ میں دوبارہ آیا تو میں نے صحابہ کرامؓ کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع میں اپنے ہاتھ سینے تک اٹھا رہے تھے اور انہوں نے جبے اور کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved