• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رَجَّال بن عُنْفُوَہ نامی شخص کے واقعہ کی تحقیق

استفتاء

” کسی کا ظاہر نہ دیکھو، انجام دیکھو”

ایک دن حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ مسجد کے قریب کچھ صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے۔ آپ ﷺ نے ان پر ایک نظر ڈالی، اور آپ کے چہرے کے تاثرات لمحہ بھر کے لیے بدلے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک عجیب و غریب بات کہی:”تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بھی بڑا ہوگا۔”

یہ الفاظ سن کر صحابہ کرام سکتے میں آ گئے۔ نبی ﷺ تو جا چکے تھے، لیکن ان کا یہ فرمان ہر دل میں نقش ہو گیا۔ ہر شخص اپنے دل میں سوال کرنے لگا: یہ بدبخت کون ہوگا؟وقت گزرتا گیا، اور برسوں بعد وہ تمام صحابہ ایمان، شہادت، اور خیر کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ صرف ابو ہریرہ رضی الله عنہ اور بنی حنیفہ کے رجال بن عنفوہ باقی رہ گئے۔

رجال بن عنفوہ ایک عابد، زاہد، قاری اور فقیہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے قریب رہے، قرآن حفظ کیا، دین سیکھا، اور عبادت میں سخت محنت کی۔ صحابہ انہیں عبادت و تقویٰ میں ممتاز سمجھتے تھے۔ حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں:”ہم رجال بن عنفوہ کو اپنے وفد کے سب سے بہترین افراد میں شمار کرتے تھے، وہ حافظِ قرآن، قیام کرنے والا، اور روزے رکھنے والا تھا۔”لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کے دل میں نبی کریم ﷺ کی وہ پیشین گوئی زندہ تھی۔ جب بھی وہ رجال بن عنفوہ کو دیکھتے، تو سوچنے لگتے:”اگر یہ جہنم میں جانے والا نہیں، تو پھر میں ہوں!”یہ خوف ان پر طاری رہتا، کیونکہ وہ اور رجال ہی باقی رہ گئے تھے، اور رجال کی ظاہری حالت تو کسی ولی الله سے کم نہ تھی۔

” بہتان، لالچ، اور ایمان کا سودا “

پھر مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں نبوت کا دعویٰ کیا، اور بہت سے لوگ اس کے جال میں پھنس گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نے رجال بن عنفوہ کو وہاں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو حق پر ثابت قدم رکھیں۔

لیکن جب مسیلمہ کذاب نے رجال بن عنفوہ کو دیکھا، تو چالاکی، دولت، اور اقتدار کے ذریعے اس کے دل میں لالچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ پہلے سونے اور چاندی کی رشوت دی، مگر رجال نے انکار کر دیا۔ پھر کہا:”اگر تم لوگوں سے کہہ دو کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بھی نبوت میں شریک کیا تھا، تو میں تمہیں آدھی بادشاہت دے دوں گا۔”یہ سن کر رجال بن عنفوہ کے قدم ڈگمگانے لگے۔ اس نے اپنے ایمان، قرآن، اور نبی کریم ﷺ کی محبت کو بیچ دیا اور لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا:”میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ مسیلمہ بھی ان کے ساتھ نبی ہے!”

یہ الفاظ قیامت سے کم نہ تھے۔ ایک ایسے شخص کا جھوٹا گواہ بن جانا، جو خود نبی کریم ﷺ کے قریب رہا ہو، عبادت گزار ہو، زاہد ہو، قرآن کا حافظ ہویہ امت کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی۔یہ جھوٹ ایسا پھیلا کہ آدھے دن میں ہزاروں لوگ مسیلمہ کے پیروکار بن گئے! اور یوں، رجال بن عنفوہ کی گمراہی، مسیلمہ کذاب سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔

“حق ہمیشہ غالب آتا ہے”

حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا۔ یمامہ میں شدید جنگ ہوئی، اور مسیلمہ اپنے پیروکاروں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ رجال بن عنفوہ بھی شرک و کفر کی حالت میں مارا گیا۔

جب یہ خبر ابو ہریرہ رضی الله عنہ کو پہنچی، تو وہ سجدے میں گر کر زار و قطار رونے لگے—مگر یہ شکر اور خوشی کے آنسو تھے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی بات حرف بہ حرف پوری ہو چکی تھی۔ وہ جس عذاب سے ڈرتے رہے، الله نے انہیں اس سے محفوظ رکھا۔

“سبق جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے”:

  • ظاہری عبادت پر نہ جاؤ، انجام پر نظر رکھو!
  • عبادت، زہد اور علم پر کبھی غرور نہ کرو، بلکہ الله سے استقامت اور حسنِ خاتمہ مانگو۔
  • کسی گناہگار کو حقیر نہ سمجھو، ہوسکتا ہے الله اسے معاف کر دے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔
  • الله کی رحمت مانگو، اور ہمیشہ حق پر ڈٹے رہو، کیونکہ ایمان کا اصل امتحان آخری سانس پر ہوتا ہے۔

” اللهم ارزقنا حسن الخاتمة “

ترجمہ:( اے اللہ ہمیں اچھا انجام عطا فرما)

 ماخذ:سیر اعلام النبلاء، البداية والنهاية، صحیح الألبانی

اس واقعہ کی تحقیق درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ واقعہ درست ہے۔

البدايہ والنہايہ  (7/ 258) میں ہے:

وذكر السهيلي وغيره أن الرجال بن عنفوة واسمه نهار بن عنفوة كان قد أسلم وتعلم شيئا من القرآن، وصحب رسول الله صلى الله عليه وسلم مدة، وقد مر عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس مع أبي هريرة وفرات بن حيان، فقال لهم: «أحدكم ضرسه في النار مثل أحد». فلم يزالا خائفين حتى ارتد الرجال مع مسيلمة وشهد له زورا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أشركه في الأمر معه، وألقى إليه شيئا مما كان يحفظه من القرآن، فادعاه مسيلمة لنفسه فحصل بذلك فتنة عظيمة لبني حنيفة، وقد قتله زيد بن الخطاب يوم اليمامة كما سيأتي.

و فيه ایضا: والرجال بن عنفوة بن نهشل، وكان الرجال هذا صديقه الذي شهد له أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنه قد أشرك معه مسيلمة بن حبيب في الأمر، فكان هذا الملعون من أكبر ما أضل أهل اليمامة، حتى اتبعوا مسيلمة، لعنهما الله، وقد كان الرجال هذا قد وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقرأ «البقرة» وجاء زمن الردة إلى أبي بكر، فبعثه إلى أهل اليمامة يدعوهم إلى الله، ويثبتهم على الإسلام، فارتد مع مسيلمة وشهد له بالنبوة.

قال سيف بن عمر عن طلحة، عن عكرمة، عن أبي هريرة: كنت يوما عند النبي صلى الله عليه وسلم في رهط، معنا الرجال بن عنفوة، فقال: إن فيكم لرجلا ضرسه في النار أعظم من أحد. فهلك القوم وبقيت أنا والرجال، وكنت متخوفا لها، حتى خرج الرجال مع مسيلمة وشهد له بالنبوة، فكانت فتنة الرجال أعظم من فتنة مسيلمة، ورواه ابن إسحاق عن شيخ، عن أبي هريرة.

امتاع الاسماع بما للنبی من الاحوال والاموال والحفدة والمتاع للعلامہ تقی الدین المقریزی،ت: ۸۴۵ھ (14/ 230) میں ہے:

وكان من أعظم ما فتن به قومه شهادة الرجال أنه قدم مع قومه وافدا النبي صلى الله عليه وسلم فقرأ القرآن وتعلم السنن.

 قال ابن عمر: وكان من أفضل الوفد عندنا، قرأ البقرة وآل عمران، وكان يأتى أبيا يقرأه، فقدم اليمامة وشهد لمسيلمة على رسول اللَّه أنه أشركه في الأمر من بعده، فكان أعظم على أهل اليمامة فتنة من غيره لما كان يعرف به

قال رافع بن خريج: كان بالرجال الخشوع ولزوم قراءة القرآن والخير فيما نرى شيء عجيب، خرج علينا رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم يوما وهو معنا جالس مع نفر فقال أحد هؤلاء النفر في النار. قال رافع فنظرت في القوم فإذا بأبي هريرة وأبي أروى الدوسيّ وطفيل بن عمرو الدوسيّ والرجال بن عنفوة، فجعلت انظر وأعجب وأقول: من هذا الشقي؟ فلما توفي رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم رجعت بنو حنيفة، فسألت ما فعل الرجال؟ فقالوا: أفتن، هو الّذي شهد لمسيلمة على رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم أنه أشركه في الأمر بعده. فقلت: ما قال رسول اللَّه فهو حق.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved