• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

روزے کی حالت میں سگریٹ اور حقہ پینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حقہ یا سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ اگر ٹوٹ جاتا ہے تو کیا قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حقہ یا سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر یہ روزہ رمضان المبارک کا ادا روزہ ہو تو حقہ یا سگریٹ پی کر اسے توڑنے سے قضا کے ساتھ کفارہ بھی آئے گا۔

مجموعہ رسائل لکھنوی (2/ 67) میں ہے:

إن الفقهاء قد فرقوا في مواضع عديدة بين الدخول و الإدخال، فحكموا بالفساد عند الإدخال دون الدخول و به يثبت المرام، لأنهم قد عللوا عدم فساد الصوم بدخول الدخان لعدم إمكان الاحتراز عنه فإذا شرب الدخان فقد أدخل عمداً ذاكراً للصوم، فيفسد لا محالة و يجب القضاء حتماً و قد نبه عليه بعض الفقهاء أيضا.

أيضا (2/ 68):

فقد بان لك دراية و رواية فساد الصوم بشرب دخان التنباك المعروف في هذا الزمان، و لم يبق للمنكر مع ذلك إلا الضلال و الطغيان.

الفقہ الإسلامی و أدلتہ (3/ 1709) میں ہے:

ما يفسد الصوم و يوجب القضاء و الكفارة معاً: وهو اثنان و عشرون شيئاً تقريباً: الأول أن

يتناول غذاء أو ما في معناه بدون عذر شرعي، كالأكل و الشرب و الدواء و الدخان المعروف و الأفيون و الحشيش و نحوهما من المحذورات لأن الشهوة فيه ظاهرة.

مراقی الفلاح (66- 665) میں ہے:

و اختلفوا في معنى التغذي: قال بعضهم أن يميل الطبع إلى أكله و تنقضي شهوة البطن به، و قال بعضهم هو ما يعود إلى إصلاح البدن. قال الطحطاوي تحت قوله (أن يميل … الخ) فمعنى التغذي على هذا انقضاء شهوة البطن بالشيء مع الميل إليه. و تحت قوله (إلى إصلاح البدن) أي و إن لم يمل إليه الطبع.

و على هذا البدعة التي ظهرت الآن و هو الدخان إذا شربه في لزوم الكفارة نسأل الله العفو و العافية. قال الطحطاوي تحت قوله (في لزوم الكفارة) حال من البدعة أي البدعة التي حدثت في لزوم الكفارة على هذا الاختلاف فمن قال إن التغذي ما يميل الطبع إليه و تنقضي به شهوة البطن أ لزم به الكفارة و على التفسير الثاني لا.

مجموعہ رسائل لكھنوي (2/ 69) میں ہے:

إن دخان التنباك المروج في زماننا بعضهم يشربونه نفساً و بعضهم يشربونها قضاءً لشهوة النفس و يميل طبعهم إليه فيجب الكفارة بشربه و قد نبه عليه الشرنبلالية.

و في رد المحتار (3/ 421):

و به علم حكم شرب الدخان و نظمه الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية بقوله: و يمنع من بيع الدخان و شربه و شاربه في الصوم لا شك يفطر و يلزمه التكفير لو ظن نافعاً كذا دافعاً شهوات بطن فقرروا.

امداد الفتاویٰ(2/ 124) میں ہے:

’’سوال: حقہ مفطر صوم ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن وجوہ سے؟

الجواب: اس روایت میں تصریح ہے کہ حقہ پینا مفسد صوم ہے اور موجب کفارہ۔‘‘

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے (6/ 419):

’’حقہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا لازم ہوتی ہے، بعض صورتوں میں کفارہ بھی لازم ہوتا ہے یعنی اسے نفع بخش سمجھا تب تو کفارہ و قضا دونوں لازم ہوں گے ورنہ صرف قضا۔‘‘

عمدۃ الفقہ (3/ 304) میں ہے:

’’حقہ سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور عنبر و عود کا دھواں قصداً اپنے اندر لینے اور نیز حقہ و سگریٹ وغیرہ کا دھواں اپنے اندر کھینچنے سے کفارہ بھی لازم آئے گا۔ کیونکہ اس سے علاج و دوا کا کام لیا جاتا ہے اور عادی لوگ اس سے لذت حاصل کر کے پیٹ کی طلب پوری کرتے ہیں۔‘‘

 

باقیات فتاویٰ رشدیہ (208) میں ہے:

’’حقہ مفسد صوم ہے، اگر صوم رمضان میں کسی نے جان کر حقہ پیا تو روزہ فاسد ہوا اور کفارہ واجب ہو گیا۔‘‘

مجموعۃ الفتاویٰ (360) میں ہے:

’’اگر دھواں حلق کے نیچے اتار لیا  جیسا کہ آج کل اکثر لوگ کرتے ہیں، تو اس سے روزہ فاسد ہو جانا چاہیے، خصوصاً تمباکو کے دھویں سے کیونکہ اس سے فرحت اور جو لوگ پینے کے عادی ہیں ان کو تسکین حاصل ہوتی ہے، اور کفارہ لازم ہو گا، اگر اس نے نفع مند اور دافع شہوات بطن کے خیال سے پیا ہے۔‘‘

آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/ 282) میں ہے:

’’سوال: روزہ دار سگریٹ یا حقہ پی لے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب: روزہ کی حالت میں حقہ پینے یا سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر یہ عمل جان بوجھ کر کیا ہو تو قضا و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved