- فتوی نمبر: 35-376
- تاریخ: 18 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
میں نے بس میں سفر کیا، رش کی وجہ سے کنڈکٹر نے بھی کرایہ نہ مانگا اور نہ میں نے دیا۔ ذہن میں تھا کہ اترتے ہوئے دے دوں گا لیکن بس والے نے آہستہ چلائی، ڈھائی گھنٹے کا سفر ساڑھے تین گھنٹے میں طے کیا تو میں نے غصہ میں اترتے ہوئے بھی کرایہ نہیں دیا۔ اب نہ بس کا نمبر یاد ہے اور نہ بس والے کی شکل تو کیا کرنا ہوگا۔ کرایہ 400 روپے تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بس والے کے لیٹ کرنے کی وجہ سے آپ کیلئے بس والے کے پیسے بطور جرمانہ روکنا جائز نہیں تھا ، اس لئے مذکورہ صورت میں آپ 400 روپے بس والے کی جانب سے نیت کرکے کسی مستحق زکوۃ کو دے دیں۔ اگر آئندہ وہی بس والا مل جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو ٹھیک ورنہ اسے بھی مذکورہ کرایہ دے دیں اور اس صورت میں وہ صدقہ آپ کی طرف سے شمار ہو جائے گا۔
بذل المجہود (1/37) میں ہے:
صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالاً بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك، وإلَّا ففي جميع الصور يجب عليه أن يتصدق بمثل تلك الأموال على الفقراء
شامی (4/65) میں ہے:
والحاصل ان المذهب عدم التعزير بأخذ المال
احسن الفتاویٰ (6/390) میں ہے:
سوال: زید کرایہ کے مکان میں رہتا ہے جب تک مالک مکان کرایہ وصول کرتا رہا زید کرایہ ادا کرتا رہا مگر اب کچھ عرصہ سے وہ غائب ہے مارکیٹ میں اس کی دکان ہے وہاں جا کر معلوم کیا تو وہ بھی بند پڑی ہے نہ معلوم زندہ ہے یا فوت ہو گیا؟ اس کا کرایہ کس کو ادا کیا جائے ؟
الجواب: اسے تلاش کرنا ضروری ہے ہر ممکن حد تک تلاش و جستجو سے سراغ نہ لگے تو مزید انتظار کیا جائے اگر اس کی آمد سے بالکل مایوسی ہو جائے اور اس کا کوئی وارث بھی موجود نہ ہو تو یہ رقم اس کی طرف سے مساکین پر صدقہ کی جائے اگر کسی وقت وہ آگیا اور یہ صدقہ اس نے منظور کر لیا تو فبہا ورنہ وہ پوری رقم اسے دوبارہ ادا کی جائے اس صورت میں اس صدقہ کا ثواب کرایہ دار کو ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved