- فتوی نمبر: 35-206
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
رسول الله ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1083]
1۔کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟
2۔سجدہ سے مراد نماز کا سجدہ ہے ؟
3۔سجدہ میں دعا مانگنے کا کیا طریقہ ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)مذکورہ حدیث صحیح ہے ۔
(2) مذکورہ حدیث میں سجدہ سے مراد نماز کا سجدہ ہے۔
(3)سجدہ میں دعا مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ سجدہ میں جا کر ہاتھوں کو اٹھائے بغیر زبان سے دعا مانگیں البتہ وہ دعائیں مانگیں جو قرآن و حدیث میں منقول ہیں یا جن کا سوال مخلوق سے نہیں کیا جاسکتا نیز نماز میں عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دُعا مانگنا جائز نہیں۔
نوٹ: حنفیہ کی تحقیق میں نفل نمازوں کے علاوہ میں دُعا نہیں مانگنی چاہیے۔
(1)صحیح مسلم(رقم الحدیث1084) میں ہے:
عن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اقربُ ما يكون العبد من رَّبه وهو ساجد فاكثِروا الدعاءَ،
(2)در مختار (2/262) میں ہے:
وكذا لا ياتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح على المذهب وما ورد محمول على النفل
وفى الشامية: وقال صاحب الحلية على انه ان ثبت في المكتوبة فليكن في حالة الانفراد والجماعة والمامومون محصورون لا يتثقلون بذلك كمانص عليه الشافعية ولا ضررفي التزامه وان لم يصرح به مشايخنا فان القواعد الشرعية لا تنبوا عنه كيف والصلوةوالتسبيح والتكبير والقراءة كما ثبت في السنة
(3) در مختار (2/285 ) میں ہے:
)ودعا( بالعربية وحرم بغيرها )بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة لا بما يشبه كلام الناس (
احسن الفتاویٰ (3/27) میں ہے :
سجدہ میں دعا مانگنے کے وقت ہتھیلی زمین کی طرف رکھنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
