• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

سردیوں میں روزہ رکھنے پر قادر آدمی کے لیے فدیہ ادا کرنے کی حیثیت

استفتاء

ایک عورت کی عمر 70 سال ہے، کمزوری بھی ہے اور کافی عرصہ سے دل کی تکلیف بھی ہے ، ساتھ ساتھ دوائی بھی چل رہی ہے۔ ایسی عورت اپنے روزوں کا فدیہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ کیا وہ فدیہ ادا کر سکتی ہے؟

وضاحت: اس عورت کی کیفیت یہ ہے کہ گرمیوں میں روزہ نہیں رکھ سکتی، البتہ سردیوں میں روزہ رکھ سکتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسی عورت پر فدیہ نہیں آتا۔ بلکہ اس کے ذمے ہے کہ یہ سردیوں میں اپنے ان روزوں کی قضا کرے۔

في رد المحتار (3/472):

(العاجز عن الصوم) أي عجزاً مستمراً كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر و يقضيه في الشتاء …. إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض و السفر في عرضة الزوال فيجب القضاء و عند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية.

و في البحر الرائق (2/ 501):

(و للشيخ الفاني و هو يفدي فقط) أي له الفطر و عليه الفدية و ليست على غيره من المريض و المسافر و الحامل و المرضع لعدم ورود نص فيهم و وروده في الشيخ الفاني و هو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت … و إن لم يقدر لشدة الحر كان له أن يفطر و يقضيه في الشتاء. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved