- فتوی نمبر: 35-134
- تاریخ: 22 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
پہلا واقعہ یہ ہے کہ تقریبا 14 سال قبل میری خالہ ساس کے شوہر نے گھر میں ناچاقی کی وجہ سے اپنی بیگم کو طلاق دی جس میں یہ ظاہر ہوا کہ شوہر کہہ رہا ہے کہ” میں نے تین دفعہ طلاق دی” جبکہ ان کی بیگم یہ کہہ رہی ہے کہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ انہوں نے کتنی دفعہ بولا اس دوران ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی جبکہ بچہ 10 دن کا تھا اور عورت پاکیزہ نہیں تھی اور یہ سب ان کے شوہر کے اوپر بری چیز کے سایہ کی وجہ سے تھا اس کے بعد ان دونوں میں صلح ہو گئی اور دونوں میاں بیوی اچھے طریقے سے رہنے لگے۔
دوسرا واقعہ:کچھ عرصہ گزرنے( دو سال) کے بعد پھر گھریلو جھگڑے کی وجہ سے ناچاقی پیدا ہونے کی وجہ سے ان کے شوہر نے طلاق کے پیپر بھیجے اس دوران شوہر پر سایہ کا بری طرح سے اثر تھا اور وہ چیزیں کہہ رہی تھی کہ اپنی بیوی کو طلاق دو اس دوران ان کے شوہر نے پھانسی کا پھندہ بھی لیا تب بھی وہ ہوش میں نہیں تھے ان کے گھر والوں نے طلاق کے پیپر بنوائے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے پڑھ کر خود سنایا تھا اور اس پر میں نے خو د دستخط کیے جبکہ ان کا ماموں بھی اس چیز کی گواہی دیتا ہے کہ ہمارا بچہ ہوش میں نہیں تھا یہ سب سایہ ختم کروانے کی وجہ سے کیا تھا تاکہ وہ چیزیں اس کا پیچھا چھوڑ دیں ان کے گھر والے اس چیز کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہوش میں نہیں تھا اور ان کا شوہر کہہ رہا ہے کہ میں ہوش میں تھا اگر وہ ہوش میں ہوتا تو پھانسی کا پھندہ خود لیتا ؟یا اپنی بیوی کو طلاق دیتا ؟اور اپنے بچوں کو تنہا چھوڑتا ؟ اس کے بعد ان کے درمیان مولانا سے پوچھ کر ان کی صلح کروائی گئی اور 40 بندوں کو کھانا بھی کھلایا اور یہ پھر ہنسی خوشی رہنے لگے۔
3۔تیسرا واقعہ: پھر اس طرح کچھ عرصہ گزرنے کے بعد گھر میں گھریلو جھگڑے اور ناچاقی اور زمین کے حصے کی وجہ سے ان کے شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ان کا شوہر اقرار کرتا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے لیکن مجھے یاد نہیں کہ ایک بار کہا ہے یا دو بار ؟ جبکہ ان کی بیوی نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا تاکہ وہ اپنے منہ سے غلط لفظ نہ نکال سکے اس بات کو تقریبا ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اور وہ بھی ابھی علیحدہ علیحدہ رہ رہے ہیں دوسرے واقعے کے بعد ان کے تین بچے ہوئے دونوں میاں بیوی آپس میں صلح کرنے پر راضی ہیں۔ اس سارے واقعے کے بعد دیکھا جائے ان کے پانچ بچے ہیں اور وہ آپس میں اکھٹے رہنا چاہتے ہیں میاں صرف اپنی انا پر ہے اور ان دونوں کے گھر والے بھی راضی ہیں۔
میاں اس چیز کا اقرار کرتا ہے کہ اگر مجھے فتوی مل جائے گا تو میں دوبارہ نکاح کر لوں گا۔
نوٹ: تمام علماء کرام سے گزارش ہے اس تمام مسئلے پر نظر ثانی کی جائے اور فتوی دیا جائے کہ کیا اسلام میں اتنی گنجائش بنتی ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی آپس میں رہ سکیں اور بچوں کی اچھی پرورش اور دیکھ بھال کر سکیں آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکالا جائے۔
بیوی کا بیان:
14 سال پہلے 1 دفعہ کہا ” میں نے تمہیں طلاق دی” تین دفعہ کا یاد نہیں کیونکہ بات پرانی ہو چکی ہے۔
2۔پھر دو سال بعد دوبارہ طلاق کے کاغذ مجھے بھیجے میں نے پڑھے بغیر ڈاکیے کو واپس کر دیے اور مجھے یونین کونسل سے پتا چلا کہ وہ طلاق کے کاغذ تھے اس لیے مجھے نہیں پتا کہ ان میں کتنی طلاقوں کا ذکر تھا۔
3۔ میں نے اپنے بھائی سے پیسے مانگے اس نے نہیں دیے اس پر بحث ہوئی تو انہوں نے مجھے غصے میں کہا ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اور باہر چلے گئے میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اس وقت میری سولہ سالہ بیٹی ،اور تیرہ سالہ بیٹا بھی وہاں موجود تھے اور تھوڑی دیر بعد واپس آئے اور بچوں کے ساتھ مل کر رونے لگے اور کچھ دن ہم ایسے ہی علیحدہ رہے پھر میرے شوہر کے بڑے بھائی آئے اور انہوں نے ہماری صلح کرا دی اور کہا کہ اب تم اکٹھے رہو پھر بڑی عید سے ایک دن قبل ہمیں فیصل آباد کی ٹرین میں بٹھا کر آئے میکے جانے کے لیے وہاں ہم نے عید گزاری چند دنوں بعد پھر ان کا فون آیا کہ مجھے فتوی نہیں مل رہا ۔میں نے کہا کیا مطلب! فتوی نہیں مل رہا ہماری تو صلح ہو گئی تھی انہوں نے کہا تم اپنے بھائیوں سے کہہ دو کہ وہ مجھے فتوی لے کر دیں میں نے کہا کہ اگر فتوی نہ ملا تو؟ انہوں نے کہا پھر تم میرے بچے اپنے پاس رکھ لینا اور اگر تم نے نہیں رکھنے ہوئے تو میں رکھ لوں گا اور تم اپنے میکے رہنا ۔میں نے کہا ٹھیک ہے اب ہم گوجرنوالہ میں رہ رہے ہیں لیکن وہ اپنی والدہ کے پاس رہتے ہیں اور ہمیں ایک گھر رینٹ پر لیکر دیا ہوا ہے جس کا رینٹ وہ ہی ادا کرتے ہیں۔
شوہر کا بیان:
پہلی مرتبہ میں نے تین طلاقیں دی تھیں جس کے الفاظ یہ تھے” میں تجھے طلاق دیتا ہوں” اس نے کہا آمین آمین اور اس وقت مجھ پر کوئی سایہ نہیں تھا مکمل ہوش وحواس میں تھا۔
2۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے بھائیوں سے اپنے والد کی وراثت کا حصہ مانگو اس نے کہا اگر تم نے حصہ لینا ہے تو مجھے طلاق دو اسی طرح ایک موقع پر میرے گھر مہمان آئے ہوئے تھے اور میرے سعودیہ جانے کی بات ہو رہی تھی تو اس نے کچن میں سے سن لی اور مہمانوں کے سامنے اس نے آ کر کہا اگر یہ ملک سے باہر جائے گا تو مجھے طلاق دے کر جائے گا اور مختلف موقعوں پر طلاق کا مطالبہ کرتی تھی ۔
3 ۔اسی طرح ایک دفعہ کہا “یاد رکھیں میں پرا نئ چھڈنا ، تینوں چھڈ دینا ہے ” (یاد رکھنا میں نے بھائی کو نہیں چھوڑنا، تجھے چھوڑ دینا ہے) تو میں نے غصے میں اس کو تین دفعہ طلاق دے دی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں 14 سال پہلے والے واقعہ میں شوہر کے بقول اس نے تینوں طلاقیں دے دی تھیں اور پورے ہوش و حواس میں دی تھیں اور اب بھی جب شوہر سے فون پر دارالافتاء کے نمبر سے بات کی گئی تو شوہر نے یہی کہا کہ میں نے تینوں طلاقیں دے دی تھیں اس کے علاوہ بھی ایک واقعہ میں شوہر نے تین طلاقیں دینے کا اقرار کیا ہے لہذا یہ کہنا کہ شوہر پر سایہ تھا اور اس کے زیر اثر شوہر نے طلاقیں دی ہیں خود شوہر کے بیان کے مطابق درست نہیں۔
درمختار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved