• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

صبح صادق اور فجر کے درمیان خالی وقت

استفتاء

1۔ کیا صبح صادق اور فجر کے وقت کے درمیان خالی وقت ہوتا ہے، جو نہ صبح صادق کا ہو اور نہ ہی فجر کا وقت ہو؟

اگر تو ان دو وقتوں کے درمیان کوئی وقت نہیں تو پھر یہ پوچھنا ہے کہ فجر کی اذان (ماہِ رمضان میں) وقت مقررہ سے دو یا تین منٹ پہلے دی جا سکتی ہے، تاکہ روزے داروں کو پتہ چل جائے کہ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے اور کھانا کھانے سے رک جائیں۔ یا اذان کی بجائے مسجد کے سپیکر میں (سحری کا وقت ختم ہونے سے ایک دو منٹ پہلے) اعلان کر دیا جائے کہ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ یا سائرن بجا دیا جائے۔ یعنی سحری کے وقت کے ختم ہونے سے پہلے کس طرح لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے؟ کون سا طریقہ بہتر ہے؟

ضروری وضاحت: اس بات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ چند سالوں سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ چونکہ ماہِ رمضان میں فجر کی اذان  گو کہ اول میں وقت میں ہوتی ہے، لیکن ہوتی تو صبح صادق کے بعد ہی ہے، اور تمام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ جب تک اذان شروع نہ ہو جائے سحری کھاتے رہتے ہیں، اور بعض لوگ اذان کے ختم ہونے تک کھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مؤذن لا الہ الا اللہ کہہ دے۔ اس لیے اس بات کی ضرورت بڑی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے کہ سحری کے وقت ختم ہونے سے ایک دو منٹ پہلے لوگوں کو آگاہ کر دیا جائے۔

2۔ یہ بھی واضح کریں کہ جو لوگ کئی سالوں سے یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں کہ فجر کی اذان تک سحری کھاتے رہے ہیں (جبکہ اذان کبھی تاخیر سے بھی ہو جاتی ہے) اور مسائل کا علم نہیں ہے، تو انہوں نے جو اس طرح روزے رکھے ہیں تو ان روزوں کیا حکم ہے؟

3۔ سحری و افطاری کی جو دعائیں آپ ﷺ سے منقول ہیں وہ بھی تحریر فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ صبح صادق اور فجر کے وقت کے درمیان کوئی ایسا وقت نہیں کہ جو نہ صبح صادق کا ہو اور نہ فجر کا ہو۔ ماہ رمضان میں فجر کی اذان وقت سے پہلے دینا درست نہیں۔ اور اسی طرح اعلان بھی وقت ختم ہونے سے پہلے نہ کیا جائے، بلکہ جب سحری کا وقت ختم ہو، اسی وقت اعلان کیا جائے یا سائرن بجا دیا جائے۔ باقی رہی یہ بات کہ لوگ اذان تک سحری کھاتے رہتے ہیں، تو اس کا حل یہ ہے کہ سحری کے ختم ہونے کا اعلان تو بر وقت کر دیا جائے اور اذان پانچ دس منٹ لیٹ دی جائے۔

2۔ جو لوگ فجر کی اذان تک سحری کھاتے رہے ہیں ان کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر تو وہ ان روزوں کی قضا کر سکتے ہوں تو ان کی قضا کی جائے، اور اگر اس طرح کے روزے بہت زیادہ ہوں کہ قضا کرنی مشکل ہو تو صرف توبہ استغفار کریں۔

3۔  افطاری کی دعا یہ ہے:

اللهم لك صمت، و علی رزقك أفطرت.

ترجمہ: اے اللہ میں نے آپ کے لیے روزہ رکھا، اور آپ کے رزق پر افطار کیا۔ (ابوداؤد)

سحری سے متعلق کوئی خاص دعا منقول نہیں۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved