• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سبحان نام رکھنا کیسا ہے؟

استفتاء

معارف القرآن(4/132) سورۃ اعراف میں ہے:

’’اور اسماءِ حسنیٰ میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں اُن کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا الحادِ مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے۔ مثلاً رحمن،  سبحان، رزاق، خالق، غفار، قدوس وغیرہ۔ پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رزاق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کررہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے۔ اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بے فکری یا بے سمجھی سے کسی شخص کو خالق، رزاق، یا رحمن، سبحان کہہ دیا تو یہ اگر چہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہِ شدید ہے۔‘‘

افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیئے۔

مذکورہ تحریر کے پیش نظر سوال یہ ہے کہ کیا سبحان نام رکھنا جائزہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مولانا عبدالحیؒ لکھنوی نے سعایہ حاشیہ شرح وقایہ جلد 2صفحہ 164پر لکھا ہے کہ لفظ ’’سبحان‘‘اللہ تعالی کا نہ علم (نام)ہے اور نہ وصف،بلکہ مصدر ہے۔مولانا کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’سبحان‘‘نام رکھنا جائز ہونا چاہیے۔باقی مذکورہ تحریر چونکہ مفتی شفیع صاحبؒ کی ہے جو بذات خود ایک بڑے عالم اورمفتی تھے لہذا عین ممکن ہے کہ ان کےسامنے لفظ ’’سبحان‘‘کے اسمائے حسنی میں سے ہونے کی کوئی دلیل ہو اس لیے اس سلسلے میں بہترطریقہ یہ ہے کہ آپ جامعہ دارالعلوم کورنگی کے دارالافتاءسے رابطہ کریں۔

السعایہ(164/2)میں ہے:

قلت: ومن ههنا وضح لك أن تسمية العوام اطفالهم “بعبد السبحان” مما لا معنى لها ويجب نهيهم عنها فان العبودية لا تضاف الا الى اسم الله تعالى، والسبحان ليس علما له ولا وصفا له بل هو مصدر فاحفظه فانه من الفوائد النفيسة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved