• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تعوذ اور تسمیہ میں اتصال اور عدم اتصال کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین  اس مسئلہ کے بارے میں کہ  فرمانِ باری تعالیٰ “فاذا قرأت القرآن فاستعذبالله من الشیطٰن الرجیم ” (پارہ 14 سورہ النحل آیت 98) کی وجہ سے ابتدائے تلاوت میں استعاذہ (اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم) کرنا بعض علمائے مجودین کے نزدیک واجب جبکہ جمہور علمائے مجودین کے نزدیک مستحب ہے۔ اور تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) پڑھنا ابتدائے سورت میں واجب ہے۔

قاری ****صاحب نےکلاس میں طلبہ کو سورہ یسین بایں صورت کہلوائی کہ اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، سورہ یسین مکیہ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، یس والقرآن الحکیم الخ، یعنی پہلے نمبر پر استعاذہ،دوسرے نمبر پر سورت کانام، تیسرے نمبر پر تسمیہ، پھر سورت شروع کی۔اس پر مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اعتراض فرمایا کہ ہم تو کلاس میں اس طرح پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، پہلے نمبر پر سورت کا نام، دوسرے نمبر پر استعاذہ، تیسرے نمبر پر تسمیہ  پھر سورت شروع کر تےہیں،بطور دلیل فرمایا کہ استعاذہ قرآن اور غیر قرآن میں فرق کرنے کے لیے ہے، سورت کا نام نہ تو سورت کا جزو ہے اور نہ ہی قرآن کا حصہ ہے، فاذا قرأت القرآن فاستعذبالله من الشیطٰن الرجیم، پر عمل کرنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ سورت کا نام پہلے اور استعاذہ دوسرے نمبر پر ہو، تاکہ استعاذہ اور تلاوت میں اتصال رہے، بصورت دیگر تلاوت اور استعاذہ کے درمیان غیر قرآن الفاظ سے فصل لازم آ ئےگا، اور اتصال فصل سے اولی ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1۔ قرآن وحدیث اور اجماع و قیاس کی روشنی میں، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عمل سے کونسی صورت صحیح اور اولویت کے درجے پر ہے؟

2۔  نیز قرائے قراء ت عشرہ اور ان کے روات کا عمل کونسی صورت پر تھا؟

ان میں سے صحیح صورت کی نشاندہی دلائل و براہین سے مزین کرکے ممنون و مشکور فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پہلی بات یہ ہے کہ تلاوت قرآن سے پہلے تعوذ اور تسمیہ کسی بھی صورت میں شرعاً  واجب نہیں،  باقی رہی یہ بات کہ سورت کا نام تعوذ سے پہلے ہو یا بعد میں تو اس میں دونوں طرح درست ہے اور کسی ایک صورت کو دوسری  پر ترجیح نہیں اور اتصال اور عدم اتصال والی دلیل ہماری نظر میں درست نہیں کیونکہ سورتوں کے شروع میں بسم اللہ بھی کسی سورت کا جز ء نہیں اور نہ ہی تلاوت کے شروع میں بسم اللہ قرآن کی حیثیت سے پڑھی جاتی ہے لہذا اتصال اور عدم اتصال والی دلیل کو درست مان لیں تو لازم آئے گا کہ تعوذ،  تسمیہ کے بھی بعد ہو حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔

النہایہ شرح الہدایہ (2/229) میں ہے:

«وفي ” المبسوط “: (والمسألة في الحقيقة؛ تبتنى على أن التسمية؛ ليست بآية من أول الفاتحة، ولا من أوائل السور عندنا؛ بل آية أنزلت للفصل بين السور، لا من أول السورة؛ ولهذا كتبت بخط على حدة، وهو اختيار أبي بكر الرازي، حتى قال محمد يكره للجنب، والحائض؛ قراءة التسمية على وجه قراءة القرآن،».

المبسوط للسرخسی (1/13) میں ہے:

{‌فإذا ‌قرأت ‌القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم}…………وبظاهر الآية قال عطاء الاستعاذة تجب عند قراءة القرآن في الصلاة وغيرها وهو مخالف لإجماع السلف فقد كانوا مجمعين على أنه سنة

تفسیر الخازن، علاء الدین علی بن محمد المعروف بالخازن ت:۷۴۱ھ  (1/12) میں ہے:

المسألة الأولى: ‌اتفق ‌الجمهور ‌على ‌أن ‌الاستعاذة سنة في الصلاة فلو تركها لم تبطل صلاته سواء تركها عمدا أو سهوا، ويستحب لقارئ القرآن خارج الصلاة أن يتعوذ أيضا. وحكي عن عطاء وجوبها سواء كانت في الصلاة أو غيرها. وقال ابن سيرين إذا تعوذ الرجل في عمره مرة واحدة كفى في إسقاط الوجوب، دليل الوجوب ظاهر قوله تعالى: فاستعذ والأمر للوجوب، وأن النبي صلى الله عليه وسلم واظب على التعوذ فيكون واجبا، ودليل الجمهور أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يعلم الأعرابي الاستعاذة في جملة أعمال الصلاة وتأخير البيان عن وقته غير جائز. وأجيب عن قوله تعالى: فاستعذ بأن معناه عند جماهير العلماء إذا أردت القراءة فاستعذ كقوله: «إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا» معناه إذا أردتم القيام إلى الصلاة. وأجيب عن مواظبة النبي صلى الله عليه وسلم بأنه صلى الله عليه وسلم واظب على أشياء كثيرة من أفعال الصلاة ليست بواجبة كتكبيرات الانتقالات والتسبيحات في الصلاة فكان التعوذ مثلها

نخب الافکار، علامہ بدر الدین عینیؒ(3/541) میں ہے:

قلت: قول ابن حزم مخالف لإجماع السلف؛ لأنهم أجمعوا على ‌أن ‌التعوذ ‌سُنَّة والأمر في الآية ليس للوجوب

احکام القنطرۃ فی احکام البسملۃ، لعبد الحی الکھنویؒ (ص:28) میں ہے:

وتواتر قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم السورة بالبسملة لايستلزم كونها جزء من السورة لجواز كون الافتتاح بها للتبرك.

جمال القرآن (ص:11) میں ہے:

قرآن شریف شروع کرنے سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا ضروری ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر سورت سے شروع کرے تو بسم اللہ ضروری ہے اسی طرح اگر پڑھتے پڑھتے کوئی سورت بیچ میں شروع ہوگئی تب بھی بسم اللہ ضروری ہے مگر اس دوسری صورت میں سورہ براءت کے شروع میں نہ پڑھے اور اگر کسی سورت کے بیچ میں سے پڑھنا شروع کیا تو بسم اللہ پڑھ لینا بہتر ہے ضروری نہیں لیکن اعوذ اس حال میں بھی ضروری ہے۔

اور  اسی کے تحت حاشیہ میں قاری اظہار الحق تھانویؒ فرماتے ہیں:

ضروری عرف و عادت قراء کرام یا آداب قرآنی کے لحاظ سے ہے شرعا نہیں ہے،  شرعا مستحب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved