- فتوی نمبر: 32-212
- تاریخ: 06 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
میرا نام زید ہے۔ میری اور میری گھر والی کی آپس میں لڑائی ہوئی اور بات طلاق تک آگئی، میں نے گھر والی کو کہا کہ “میں تمہیں طلاق دے دونگا” اس کے بعد مسئلہ کو سلجھانے کی کافی کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی اور میری گھر والی نے اسٹام پیپرز والے سے اسٹام والا طلاق نامہ تیار کر والیا میرے نام سے، جس پر میں نے گواہوں کی موجودگی میں 2 دفعہ کہا کہ” میں آپ کو طلاق دیتا ہوں” تیسری بار کہنےلگا تو میری گھر والی نے کہا کہ “ایک دفعہ آپ گھر میں دے چکے تھے “میں نے کہا “ہاں بلکل” اور اسٹامپ پیپرز پر دستخط کر دیئے ایسے میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟جبکہ گھر پر میں نے کہا تھاکہ” میں آپ کو طلاق دے دوں گا”۔
طلاقنامے کی عبارت:
میں مسمیٰ زید ولد خالد اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ فاطمہ دختر بکر کو طلاق دیتا ہوں۔
میں مسمیٰ زید ولد خالد اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ فاطمہ دختر بکر کو طلاق دیتا ہوں۔
میں مسمیٰ زید ولد خالد اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ فاطمہ دختر بکر کو طلاق دیتا ہوں۔
میں مسمیٰ زید ولد خالد اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ فاطمہ دختر بکر کو تین طلاقیں حتمی طور پر دیتا ہوں جس کے بعد میرے اور مسماۃ فاطمہ دختر بکر کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا اور مسماۃ فاطمہ دختر بکر عدت کے بعد جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے …………. الخ
دستخط:……………
وضاحت مطلوب ہے:1۔جب آپ نے طلاقنامے پر دستخط کیے تو آپ کی بیوی آپ کے پاس موجود تھی؟ 2۔آپ نے اسٹامپ پیپر پر پڑھ کر دستخط کیے تھے یا بغیر پڑھے؟
جواب وضاحت:1۔ جی جب دستخط کیے تھے تو بیوی پاس تھی۔ 2۔ طلاقنامہ پڑھا تھا۔
نوٹ: سوال میں میری بیوی نے جو کہا تھا کہ آپ نے ایک دفعہ گھر میں بھی دی تھی اور میں نے کہا “ہاں بالکل” تو میں نے وہ طلاق نہیں دی تھی بلکہ میں نے کہا تھا کہ “دے دوں گا” اور یہاں غلطی سے بھول کر کہہ دیا کہ “ہاں بالکل”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
فتاوی شامی (4/442) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
ہندیہ(1/ 473) میں ہے:
«وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved