- فتوی نمبر: 26-71
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حضانت اور پرورش کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کی باہمی ہم آہنگی نہ ہونے اور آئے روز طلاق کے مطالبہ کی وجہ سے اس کے خاوند نے مختلف اوقات میں طلاقیں دیں یعنی پہلی طلاق شادی کے 6 سال بعد دی۔ دوسری طلاق شادی کے 11 سال بعد دی اور تیسری طلاق شادی کے 16 سال بعد دی۔ اور تین بچے ہیں جن میں سے بیٹی کی عمر 16سال ہے جو بالغہ (غیر شادی شدہ) ہے۔اور ایک بیٹے کی عمر 15 سال ہے جو بالغ ہے اور دوسرے بیٹے کی عمر 8 سال ہے۔
شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمائیں کہ:
(1)بچوں کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار ماں اور باپ میں سے کس کو ہے؟
(2)نیز اگر بچے پرورش کے حقدار کے پاس نہ رہنا چاہیں تو کیا حکم ہے؟ جبکہ ماں بچوں کے تعلیمی اخراجات مکان کا کرایہ وغیرہ ادا کرنے سے قاصر ہے اور والد پہلے سے تمام اخراجات پوری ذمہ داری سے ادا کررہا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیٹی کی پرورش کا حق باپ کو ہے کیونکہ بیٹی کی نو سال کی عمر تک پرورش کا ماں کو ہوتا ہے اس کے بعد جب تک بیٹی کی شادی نہ ہوجائے یا وہ پختہ عمر تک نہ پہنچ جائے، اس وقت تک اسے باپ اپنے ساتھ رکھے گا، اگرچہ بیٹی بالغ اور سمجھدار ہوجائے۔ بڑا بیٹا چونکہ بالغ ہے اس لیے اگر سمجھ بوجھ والا ہے اور اس پر امن ہے تو اس کو اختیار ہے، والدین میں سے جس کے ساتھ چاہے رہے، کوئی ایک اسے اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور اگر اس پر امن نہ ہو تو باپ اس کو اپنے ساتھ رکھے گا۔اور چھوٹے بیٹے کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہے کیونکہ بیٹے کی سات سال کی عمر تک پرورش کا حق ماں کو ہوتا ہے اس کے بعد پرورش کا حق باپ کو حاصل ہوجاتا ہے۔
(2) بچوں کا اس میں کوئی اختیار نہیں کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتے ہیں یا کس کے پاس نہیں۔
در مختار مع رد المحتار (5/273) میں ہے:
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا. (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية ……… (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى ………. (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي….. (ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية وأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر.
وقال الشامي تحته: قوله: (كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى. قوله: (وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية …….. قوله: (ولا خيار للولد عندنا) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغير لأنه لقصور عقله يختار من عنده اللعب
ہندیہ (1/542) میں ہے:
ويمسكه هؤلاء إن كان غلاما إلى أن يدرك فبعد ذلك ينظر إن كان قد اجتمع رأيه وهو مأمون على نفسه يخلى سبيله فيذهب حيث شاء، وإن كان غير مأمون على نفسه فالأب يضمه إلى نفسه …….. وإن كانت البالغة بكرا فللأولياء حق الضم، وإن كان لا يخاف عليها الفساد إذا كانت حديثة السن وأما إذا دخلت في السن واجتمع لها رأيها وعفتها فليس للأولياء الضم ولها أن تنزل حيث أحبت لا يتخوف عليها كذا في المحيط
فقہ اسلامی مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ(ص175) میں ہے:
’’مسئلہ: لڑکا جب تک سات برس کا نہ ہو تب تک ماں کو اس کی پرورش کا حق رہتا ہے۔ جب سات برس کا ہوگیا تو اب باپ اس کو زبردستی لے سکتا ہے تاکہ وہ لڑکے کی تعلیم وتربیت کرے۔ اور لڑکی کی پرورش کا حق ماں کو نو برس کی عمر تک رہتا ہے، جب نو برس کی ہوگئی تو باپ لے سکتا ہے تاکہ وہ لڑکی کی حفاظت کرے۔ اب عورت کو روکنے کا حق نہیں‘‘۔۔۔۔۔۔
’’مسئلہ: لڑکا جب بالغ ہوجائے اور سمجھ بوجھ والا ہوجائے اور اس پر امن ہو تو باپ اس کو زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، وہ چاہے اکیلا رہے چاہے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہے۔ اور اگر لڑکے پر امن نہ ہو تو باپ اس کو اپنے ساتھ رکھے گا۔‘‘
نیز (ص176) میں ہے:
’’اگر بلوغت کے بعد لڑکی کنواری ہو تو اگرچہ اس پر امن ہو لیکن نوجوان ہونے کی وجہ سے ولی اس کو اپنے ساتھ رکھے گا، پھر جب عمر پختہ ہوجائے تو ولی کا اختیار ختم ہوجائے گا اور وہ جہاں چاہے رہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved