- فتوی نمبر: 26-126
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں تحصیل ***ضلع ***کا مستقل سکونتی ہوں میری عمر ۳۴ سال ہے مورخہ 20-9-15کو میرا نکاح ہوا اور بعد از نکاح میری بیوی میرے گھر آباد ہوگئی نکاح کے تین ماہ بعد میری بیوی غیر آباد ہوگئی میری ہر ممکن کوشش کے باوجود میرے گھر آباد نہ ہوئی تو میں ایک ایڈووکیٹ(وکیل) کے پاس گیا جس نے طعمِ نفسانی کی خاطر مجوزہ قانون اور شرعِ محمدی کی وضاحت کیے بغیر اپنی فیس لینے کی خاطر مجھ سے طلاق کے مختلف پیپر زپر دستخط کروانے کے بعد ڈیٹیل فائنل کی کہ ہر ماہ مقررہ تاریخ پر میں از خود طلاق نوٹس (اول دوئم سوئم)آپ کی بیوی کے ایڈریس پر اور میونسپل کارپویشن کے دفتر کے ایڈریس پر خود ہی رجسٹری کروادوں گا۔ میں نے وکیل صاحب کی طے کردہ فیس ادا کر دی اور طلاق کے نوٹس پڑھ کر ان پر دستخط کرکے وکیل صاحب کے حوالے کردیئے، وکیل موصوف نے پہلا نوٹس مورخہ 21-9-10کو ارسال کیا اور دوسرا نوٹس مورخہ 21-9-29کو ارسال کردیا میں نے اپنی بیوی کو مجوزہ طریقہ کے مطابق اپنی زبان سے بول کرروبروگواہان طلاق نہیں دی ہے۔ میری بیوی بلاوجہ غیر آباد تھی میری ہر ممکن کوشش کے باوجود میرے گھر آباد ہونے کوتیار نہ تھی اس لیے میں نے نوٹس طلاق جاری کیا اب وہ آباد نہ ہونے کی ضد کو ترک کر چکی ہے اور میرے گھر بغیر کسی شرط کے آباد ہونے کو تیار ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟نوٹس طلاق ساتھ لف ہیں۔
تنقیح: دوسرے طلاقنامے پر دستخط نہیں ہیں کیونکہ میں نے دستخط کرنے سے پہلے اس کی تصویر لی تھی اور وہی تصویر آپ کے پاس بھیجی ہے۔
پہلے طلاقنامہ کی عبارت:
منکہ مسمی زید ولد خالد ذات **سکنہ ***** کا ہوں جو کہ بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلاشرکت غیرے بلاجبرواکراہ غیرے اپنی آزاد رضامندی سے اقرار کرتاہوں اور لکھ دیتاہوں کہ میرانکاح ہمراہ مسماۃ زینب دختر عمر ذات ** سکنہ ***سے مورخہ15-9-2020 کو ہوا تھا…………..لہٰذا بوجہ لڑائی جھگڑا من مقر مسماۃ زینب کو(طلاق) دیتا ہے۔ لہٰذا (طلاق نوٹس اول) بر خلاف مسماۃ زینب تحریروتکمیل کردیاہے۔
دوسرے طلاق نامہ کی عبارت:
منکہ مسمی زید ولد خالد ذات **سکنہ ***** کا ہوں جو کہ بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلاشرکت غیرے بلاجبرواکراہ غیرے اپنی آزاد رضامندی سے اقرار کرتاہوں اور لکھ دیتاہوں کہ میرانکاح ہمراہ مسماۃ زینب دختر عمر ذات ***سکنہ ****سے مورخہ15-9-2020 کو ہوا تھا…………..لہٰذا بوجہ لڑائی جھگڑا من مقر مسماۃ زینب کو(طلاق دیتا ہوں) دیتا ہے۔ لہٰذا (طلاق نوٹس دوم) بر خلاف مسماۃ زینب تحریروتکمیل کردیاہے۔
تیسرے طلاقنامہ کی عبارت:
منکہ مسمی زید ولد خالد ذات **سکنہ ***** کا ہوں جو کہ بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلاشرکت غیرے بلاجبرواکراہ غیرے اپنی آزاد رضامندی سے اقرار کرتاہوں اور لکھ دیتاہوں کہ میرانکاح ہمراہ مسماۃ زینب دختر عمر ذات ***سکنہ ****مورخہ15-9-2020 کو ہوا تھا…………..لہٰذا بوجہ لڑائی جھگڑا من مقر مسماۃ زینب کو(طلاق طلاق طلاق) دیتا ہے۔ لہٰذا (طلاق نوٹس سوم/ثلاثہ) بر خلاف مسماۃ زینب تحریروتکمیل کردیاہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ طلاقناموں پر کوئی تاریخ درج نہیں لہٰذا طلاقناموں پر دستخط کرتے ہی تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
تبیین الحقائق(218/6) میں ہے:
ثم الكتاب على ثلاث مراتب مستبين مرسوم , وهو أن يكون معنونا أي مصدرا بالعنوان , وهو أن يكتب في صدره من فلان إلى فلان على ما جرت به العادة في تسيير الكتاب فيكون هذا كالنطق فلزم حجة.
بدائع الصنائع (174/3) میں ہے:
إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعلقه بشرط بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل.
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة لأن أهل التأويل اختلفوا في مواضع التطليقة الثالثة من كتاب الله قال بعضهم هو قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره }
امدادالفتاوی جدید مطول(183/5) میں ہے:
“ایک شخص نے دوسرے سے کہا ایک طلاق لکھدو اس نے بجائے صریح کے کنایہ لکھدیا آمر نے بغیر پڑھے یا پڑھائے دستخط کر دئیے تو کیا حکم ہے اور دستخط کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ معتبر نہ ہو اسی طرح جیسے بعض اطراف بنگالہ میں دستور ہے کہ شوہر سے لکھوا لیتے ہیں اگر برس دس نان و نفقہ سے خبر نہ لی تو طلاق ہے یہ تحریر اگر قبل نکاح ہو معتبر نہیں اوربعد نکاح معتبر ہے لیکن اگر تحریر پہلے سے مرتب ہے اور بعد نکاح کے اُس پر دستخط کر دئیے گئے اور حوالہ زوجہ کے کر دی گئی تو کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر مضمون کی اطلاع پر دستخط کئے ہیں تو معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں قواعد سے یہی حکم معلوم ہوتا ہے اور دستخط کرنا اصطلاحاً اس مضمون کو اپنی طرف منسوب کرنا ہے ………الی آخرہ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved