- فتوی نمبر: 35-114
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا بچہ پیدا ہوا، جو ابھی دو دن کا تھا کہ تیسرے دن میں نے اپنی بیوی کو گھر کی پریشانی کی وجہ سے واپس بھیج دیا اور صبح اٹھا تو گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے میں ٹینشن میں تھا میں نے اپنی بیگم کو فون کیا اور فون پر میں نے اپنی بیوی کو لفظ طلاق بولا اور ساتھ یہ بولا کہ” میں تمہیں دوسری اور تیسری دیتا ہوں” مگر طلاق کا لفظ دوبارہ استعمال نہیں کیا میری بیوی اور میرے بقول جب میں نے ایک دفعہ طلاق کا لفظ استعمال کیا تو میری بیوی نے فون بند کر دیا تھا باقی الفاظ بعد میں کہے۔ لہذا یہ میرا مسئلہ ہے اس میں میری رہنمائی کريں ۔ میری بیگم کی طبیعت بہت خراب ہے اور دونوں خاندانوں میں کافی مسئلے پیدا ہو رہے ہیں میں اور میری بیوی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کال بند ہوچکی تھی لہذا اب طلاق کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے طلاق کا لفظ بولنے کے بعد” میں تمہیں دوسری اور تیسری دیتا ہوں “کہنے سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: مذکور صورت میں کال کے دوران طلاق کہنے سے ایک طلاق واقع ہو گئی جو بیوی نے بھی سنی اس کے بعد “میں تمہیں دوسری اور تیسری دیتا ہوں ” کہنا چونکہ اسی طلاق کے پس منظر میں ہے اس لیے اس سے دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع ہو چکی ہے جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔ نیز طلاق کے واقع ہونے کے لیے الفاظ طلاق کا بیوی کے لیے سننا ضروری نہیں بلکہ طلاق کے وقوع کا مدار شوہر کے الفاظ پر ہے کہ شوہر طلاق کے الفاظ استعمال کرے تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ بیوی الفاظِ طلاق کو نہ سنے لہذا مذکورہ صورت میں بیوی کے شوہر کا جملہ نہ سننے کے باوجود طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
فتاوی تاتارخانیہ(4/418)میں ہے:
وإذا قال لامرأته: تو يكي تو سه، أو قال: ترا يكي ترا سه، قال الشيخ الامام ابو القاسم الصفار البلخي رحمه الله: لا يقع، قال الصدر الشهيد: المختار عندي أنه إذا نوى يقع الطلاق، وفي الحجة: ترا سه، المختار أن تقع الثلاث إذا نوى. وفي الظهيرية: وقال غير أبي القاسم: ينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كان في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع وإلا فلا يقع إلا بالنية،
ہندیہ (1/357)میں ہے:
ولو قال أنت بثلاث وقعت ثلاث إن نوى ولو قال لم أنو لا يصدق إذا كان في حال مذاكرة الطلاق وإلا صدق ومثله بالفارسية توبسه على ما هو المختار للفتوى
بدائع الصنائع (3/102)میں ہے:
وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عن الظاهر
بدائع الصنائع (3/187)میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة
امداد الاحکام (2/602)میں ہے:
سوال: ایک شخص نے حالت تنارع میں اپنی بیوی سے کہا کہ ’’میں تجھ کو کل کو طلاق تکیہ ملن کھڑے کرکے دونگا‘‘ اس نے جواب میں سب وشتم کے کہا کہ ’’تو ابھی طلاق دیدے‘‘ شوہر نے پھر جواب میں کہا کہ ’’ایک، دو، تین‘‘ اور بعد اس کے کہا کہ ’’جا، گھر چلی جا‘‘ اور بعد میں لوگوں نے شوہر کو ملامت وغیرہ کی کہ تم نے کیوں طلاق دی؟ تو اس نے کہا کہ میں نے دل سے طلاقیں نہیں کہیں بلکہ خوف اور ڈرانے کے واسطے کہی ہیں۔ آیا ایسی صورت میں طلاقیں واقع ہوگئیں یا نہیں؟ حوالہ کتب مع عبارت ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ بینوا، جزاکم اللہ رب الجلیل۔
الجواب:صورت مسئولہ میں اس شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔
قال في الخلاصة [2/98]:”وفي الفتاوى رجل قال لامرأته ترا يكي وترا سه او قال تو يكي تو سه قال أبو القاسم الصفار رحمه الله لا يقع شيئ وقال الصدر الشهيد رحمه الله يقع إذا نوى قال وبه يفتى“ قال القاضی [1/464على هامش الهندية]: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل ان كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق وان لم يكن لا يقع إلا بالنية كما لو قال بالعربية: أنت واحدة.اهـ… قلت: وقد وجدت المذاکرة فی الصورة المسئول عنها والله أعلم.“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved