- فتوی نمبر: 35-117
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میں گھر کی کچھ مشکلات اور کاروبار کی وجہ سے تنگ آگیا تھا کہ میں کیا کروں۔ کاروبار کی ٹینشن تھی مالک مکان کا دباؤ تھا ۔ کاروبار میں دوست نے دھوکہ دیا ان وجوہات کی وجہ سے بیوی چلی گئی تھی، میں نے اسے فون کیا کہ گھر آجاؤ اس نے کہا خالو نے بات کرنی ہے خالو نے میری پوری بات سنے بغیر مجھ پر چڑھائی کر دی کہ ہم نے تمہیں لڑکی دی ہے ہمیں کیا پتہ تھا کہ تم کام نہیں کرتے ،ہم نے آنکھیں بند کر کے لڑکی دی، میں نے فون بند کردیا، میں کبھی اپنی ذمہ داری سے بھاگا نہیں تھا ، فیکٹریوں میں کام تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں نے تین دن تک فون نہیں کیا ، تیسرے دن میری بہن آئی اس نے کہا میں بات کرتی ہوں اس نے فون کیا اور اس کو منانے لگی پھر میں نے فون لیا اور میں منانے لگا کہ مجھے تنگ نہ کرو میں بہت پھنسا ہوا ہوں ، مالک مکان بہت تنگ کر رہا ہے 9 تاریخ تک اس نے ٹائم دیا ہے کہ سامان اٹھاؤ۔آج 7 تاریخ ہے دو دن کا ٹائم ہے وہ بار بار ایک ہی بات کر رہی تھی کہ امی کو لے کر آؤ ، میں جو بھی بات کرتا وہ یہی بات کرتی کہ امی کو لے کر آؤ ۔
وہ ان مشکل حالات میں میرا ساتھ چھوڑ گئی کوئی میری نہیں سنتا تھا ، مجھے نہیں سمجھ رہا تھا ، فیصلہ نہیں کر رہا تھا کہ کیا کروں اس کے بار بار ایک ہی بات کرنے کی وجہ سے غصہ بڑھتا جا رہا تھا کہ “اپنی امی کو بلاؤ پھر بات کروں گی” اسی دوران بلا ارادہ میری جدائی کی نیت نہیں تھی اور طلاق کے احکام سے بھی ناواقف تھا کہ میرے منہ سے تین بار یہ الفاظ نکل گئےکہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” میں بے بس ہو گیا تھا ، ابھی بھی میں شدید ڈپریشن میں ہوں اور خود کو ختم کرنے کے خیالات آتے ہیں ۔
بیوی کا بیان :
شوہر نے مجھے تین مرتبہ فون پر کہا تھا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ : “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” یہ الفاظ طلاق میں صریح ہے اس میں شوہر کی نیت کے بغیر بھی طلاق ہو جاتی ہے اور غصے کی کیفیت بھی ایسی نہیں کہ اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ اس سے کوئی خلاف عادت قول یا فعل سرزد ہوا ہے لہٰذا غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں جس سے بیوی مطلقہ مغلظہ ہو گئی لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
فتاوی شامی (3/ 293) میں ہے :
كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين .
( قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
(قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد .
ہندیہ (1/473) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
بدائع الصنائع(187/3) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل “فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره” [البقرة: ٢٣٠]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved