• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق میں میاں بیوی کا اختلاف

استفتاء

شوہر نے بیوی کو  یہ جملے کہے ہیں کہ “میں تمہیں ابھی طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں”جبکہ اس سے پہلے بھی شوہر نے ایک طلاق دی تھی اور رجوع کر لیا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا اب نکاح باقی ہے یا رجوع کی گنجائش ہے؟

بیوی کا بیان:

میرا نام زینب  ہے، میرے میاں کا نام  زید  ہے۔ مجھے اپنے طلاق کا معاملہ ڈسکس  کرنا تھا۔ میرے میاں نے مجھے آج سے ڈھائی سال پہلے ایک طلاق دی تھی جس کے الفاظ تھے: ‘میں تمہیں زید  اپنے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں’۔ پھر مدت تو یاد نہیں کہ ہم نے کب رجوع کیا پر میں ضرور جانتی ہوں کہ عدت میں ہی کر لیا، کیونکہ ہماری کوئی لڑائی ہفتہ سے زیادہ نہیں رہی۔ یہ واقعہ ڈھائی سال پہلے کا ہے۔

اب اتوار مورخہ 15 فروری لڑائی کے دوران میرے میاں کے الفاظ تھے “میں تمہیں ابھی طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں”۔ اب اس پہلے  جملے “میں تمہیں ابھی طلاق دیتا ہوں” میں  وہ مجھے بتا رہے تھے کہ  طلاق دینے لگا ہوں اور یہ بھی مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ یہ دھمکی دی تھی کہ “یہ لو دینے لگا ہوں” باقی دوسرا جملہ کہ  “میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”  یہ طلاق تھی ان کی طرف سے۔ اس دوران میرے بہنوئی اور میری بہن بھی فون پر تھے انہوں نے بھی سنا۔

پھر میں جانے کی تیاری کر رہی تھی تو میرے میاں کمرے سے باہر میرے بہنوئی کو کہہ رہے تھے کہ “یہ گھر سے باہر قدم نہ رکھے اگر رکھا تو سب ختم ہے۔” میں یہ سن رہی تھی پر میرے بہنوئی کہہ رہے تھے کہ زیدنے کہا “اگر قدم باہر رکھا تو طلاق ہے”  میں کمرے میں تھی تو ساری بات نہیں سن سکی۔ اب میرے بہنوئی کہتے ہیں کہ مجھے الفاظ اب یاد نہیں اور میاں کا کہنا ہے کہ میں نے کہا تھا کہ “گھر سے باہر گئی تو طلاق دے دوں گا”

اب زید کو بہنوئی نے منایا کہ جانے دو ورنہ لڑائی بہت آگے چلی جائے گی، تو زیدنے بات مان لی اور جانے دیا۔ زیدکہتے ہیں کہ چونکہ میں نے بہنوئی کی بات مانی اس لیے جانے دیا ورنہ میں نہ جانے دیتا اور کہا بھی میں نے یہ تھا کہ “طلاق دے دوں گا” یہ نہیں کہ “ہو جائے گی”

اب یہ ساری بات میں نے خود نہیں سنی۔ میں نے بس ڈھائی سال پہلے والی طلاق اور کمرے والی طلاق اپنے  کانوں سے  سنی ہے ۔ میں حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ  یہ سب  سچ ہے۔

شوہر کا بیان:

میں، زید ولد  خالد، یہ بیان اپنے مکمل ہوش و حواس اور بغیر کسی دباؤ کے دے رہا ہوں کہ کچھ دن قبل میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو معاملات پر جھگڑا ہوا۔ واضح رہے کہ تقریباً ڈھائی سال قبل بھی ہمارا ایک جھگڑا ہوا تھا جس کے دوران میں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی تھی۔ مجھے طلاق کا شرعی طریقہ کار بخوبی معلوم ہے، اسی لیے میں نے اس وقت بھی ایک ہی طلاق دی تھی۔

حالیہ جھگڑے کے دوران میری اہلیہ نے اپنی بڑی بہن کو ویڈیو کال کی، جس پر اس کی بڑی بہن کے شوہر عمران بھی موجود تھے۔ اس ویڈیو کال پر میں اور میری اہلیہ دونوں بیک وقت موجود تھے۔ دوران گفتگو عمر مجھ سے مخاطب تھا اور میں اس سے بات کر رہا تھا۔ اسی دوران میں نے کہا کہ “ٹھیک ہے میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں”۔

اس کے بعد  میں نے براہ راست اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا “میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔” اس طرح میں نے اسے ایک طلاق دی۔

اسی دوران عمر مجھ پر اصرار کر رہا تھا کہ میں اپنی اہلیہ کو گھر سے جانے دوں، جبکہ میں اس کو جانے نہیں دے رہا تھا۔ میں نے عمرسے کہا کہ “اگر یہ گئی تو میں اسے طلاق دے دوں گا۔ “بعد ازاں عمرکے بار بار اصرار پر میں نے اس کی بات مان لی اور معاملہ وقتی طور پر ختم کر دیا۔

یہ بیان میں نے سچائی اور درستگی کے ساتھ تحریر کیا ہے تاکہ حقائق واضح رہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  شوہر کے بیان کے مطابق  اگرچہ دو طلاقیں ہوئی ہیں  تاہم بیوی کے بیان کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں  اور بیوی کا بیان اس کے اپنے حق میں معتبر ہوگا لہٰذا بیوی کے لیے اپنے بیان کے مطابق  شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے حق میں صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں، پہلی طلاق پہلے واقعہ میں بولے گئے ان  الفاظ سے ہوئی کہ  “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” ، پھر چونکہ عدت میں رجوع ہو گیا اس لیے نکاح باقی رہا، اس کے بعد ویڈیو کال کے واقعہ میں شوہر کے  ان الفاظ سے کہ “ٹھیک ہے میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں”  کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ ان الفاظ میں طلاق کے ارادے کا اظہار ہے اور طلاق کے ارادے  کے اظہار سے طلاق واقع  نہیں ہوتی لہذا شوہر کے حق میں  ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی  لیکن بیوی کے بقول شوہر نے کہا کہ “میں تمہیں ابھی طلاق دیتا ہوں” لہذا بیوی کے حق میں مذکورہ جملے سے دوسری طلاق واقع ہو گئی کیونکہ طلاق کے معاملے میں بیوی قاضی کی حیثیت رکھتی ہے یعنی اگر بیوی  شوہر سے طلاق کے الفاظ خود سن لے یا اسے کوئی معتبر آدمی طلاق کا بتادے  تو  بیوی  کے لیے  اپنے سنے ہوئے اور معتبر آدمی کے بتائے ہوئے  پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس کے بعد بیوی کو یہ جملہ کہنے سے کہ “میں تمہیں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں” شوہر کے حق میں دوسری اور بیوی کے حق میں تیسری طلاق واقع ہو گئی ۔ تیسرا جملہ شوہر کے بقول یہ تھا کہ “اگر یہ گھر سے باہر گئی تو میں طلاق دے دوں گا” لہذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

بدائع الصنائع(3/295) میں ہے:

‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

بدائع الصنائع(3/101) میں ہے:

أما ‌الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة ” مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها

ردالمحتار(4/449)میں ہے:

والمرأة كالقاضي ‌إذا ‌سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه.

شامی(8/106) میں ہے:

قالوا لو ادعت ‌أن ‌زوجها ‌أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا ……….. وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا.

فتاوی محمودیہ(13/298)میں ہے:

سوال:زید نے کہا تین مرتبہ”میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں “زوجہ کا باپ لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا،زید طلاق سے منکر ہےاورکہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر تم لے گئے تو  میں طلاق دے دوں گا۔۔۔۔زوجہ الفاظ مذکور سابقہ کا خود سننا ظاہر کرتی ہےصورت مذکورہ  میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اور نکاح جدید کس طرح ممکن ہے؟

جواب:جب عورت نے 3مرتبہ طلاق دینا خود سنا ہےتو پھر اس کے لیے زید کواپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں۔ جو جائز صورت بھی عورت کے قبضہ میں ہو زید سے بچنے کی اختیار کی جاوے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved