• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلباء کا گھر جانے کی وجہ سے مسجد کی جماعت سے پہلے اپنی جماعت کروانا

استفتاء

اگر کسی مدرسے کے  طلباء محلے کی   ایک ایسی جامع مسجد  میں  مسجد کی جماعت سے پہلے  اپنی جماعت قائم کرلیں جس کا امام اور مؤذن متعین ہوں   اور وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ  اگر امام کی جماعت تک انتظار  کیا جائے تو پھر گھر جانے میں تاخیر ہوگی ، البتہ جماعت مسجد کی دوسری منزل میں قائم کرلیں اور امام الحی پہلی  منزل میں جماعت  قائم کرتا ہے ،تو اس صورتحال میں امام الحی کی نماز مکروہ ہے یا طلباء کی  ،اس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں طلباء کی جماعت مکروہ  ہوگی۔

ہندیہ (1/61) میں ہے:

‌ولو ‌صلى ‌بعض ‌أهل المسجد بإقامة وجماعة ثم دخل المؤذن والإمام وبقية الجماعة فالجماعة المستحبة لهم والكراهة للأولى. كذا في المضمرات.

کفایت المفتی (9/440) میں ہے:

سوال: امام مسجد جبکہ وقت  مستحب پر نماز پڑھتا ہو تو اس  سے پہلے مسجد میں جماعت کردینا کیسا ہے؟

جواب: امام مسجد سے پہلے جماعت کردینا ناجائز ہے ……….  اس وجہ سے فقہاء نے لکھا ہے کہ اما م راتب سے پہلے جماعت کرنے والوں کی جماعت مکروہ ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved