- فتوی نمبر: 32-202
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید کا انتقال 1986 میں ہوا، ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی، میراث تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ 2005 کے زلزلہ میں ایک بیٹے اور بیٹی کاانتقال ہوگیا۔ لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بیٹا پہلے فوت ہوا یا بیٹی پہلے فوت ہوئی۔ بیٹے خالد نے ورثاء میں ایک بیوی اور 5 بیٹیاں چھوڑیں جبکہ بیٹی فاطمہ نے شوہر اور دو بیٹیاں چھوڑیں، بعد ازاں فاطمہ کے شوہر بکر کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے ورثاء میں دو بیٹیاں اور ایک علاتی بھتیجا ہے۔ از روئے شرع میراث تقسیم کرکے مشکور فرمائیں۔
تنقیح:(1) زید کی بیوی اور والدین زید کی وفات سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔(2) فاطمہ کے شوہر(بکر ) کی وفات سے پہلے بکر کے والدین اور بہن بھائی فوت ہوچکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید مرحوم کی جائیداد کے کل 840 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 270 حصے (32.14 فیصد) زید مرحوم کے حیات ہر ایک بیٹے کو، 32 حصے (3.80 فیصد) خالد کی ہر ایک بیٹی کو، 30 حصے (3.57 فیصد) مرحوم کے بیٹے خالد کی بیوہ کو، 50 حصے (5.95 فیصد) فاطمہ کی ہر ایک بیٹی کو، 10 حصے (1.19 فیصد) مریم کے شوہر بکر کے علاتی بھتیجے کو ملیں گے۔
الدر المختار مع ردالمحتار (10/584) میں ہے:
لا توارث بين الغرقى والحرقى إلا إذا علم ترتيب الموتى
(قوله: إلا إذا علم إلخ) اعلم أن أحوالهم خمسة على ما في سكب الأنهر وغيره.أحدها: هذا وهو ما إذا علم سبق موت أحدهما ولم يلتبس فيرث الثاني من الأول ثانيها: أن يعرف التلاحق ولا يعرف عين السابق ثالثها: أن يعرف وقوع الموتين معا رابعها: أن لا يعرف شيء ففي هذه الثلاثة لا يرث أحدهما من الآخر شيئا
البحر الرائق (9/395) میں ہے:
ولا توارث بين الغرقى والحرقى إلا إذا علم ترتيب الموت) أي إذا مات جماعة في الغرق أو الحرق ولا يدرى أيهم مات أولا جعلوا كأنهم ماتوا جميعا فيكون مال كل واحد منهم لورثته ولا يرث بعضهم بعضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved