- فتوی نمبر: 35-108
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > طواف کا بیان
استفتاء
میرے رشتہ دار عمرہ پر گئے ہیں، انہوں نے طواف کی ابتدا ء حجر اسود کے علاوہ مقام سے کی، اب وہ مدینہ منورہ میں ہیں، کیا ان پر دم لازم ہے یا دوبارہ مکہ معظمہ لوٹ کر واجب کی نیت سے طواف کا اعادہ کافی ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حجر اسود سے طواف کی ابتداء کرنا بعض فقہاء کے نزدیک واجب ہے جبکہ دیگر اہل علم کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے تا ہم صحیح قول کے مطابق حجر اسود سے طواف کی ابتداء نہ کرنے کی وجہ سے طواف میں صرف کراہت آتی ہے۔ دم دینا اور طواف کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
غنیۃ الناسک (ص:112) میں ہے:
فصل في واجبات الطواف …………. الثالث: الابتداء من الحجر الاسود على ما فى المنهاج عن الوجيز ومال إليه فى الفتح وجزم به فى البحر والنهاية والتنوير والدر ومراقى الفلاح، حتى قال فى الدر: ولو ابتدأ من غير الحجر أعاده ما دام مكة فلو رجع فعليه دم فتأمل. وظاهر الرواية أنه سنة يكره تركها وعليه عامة المشائخ وصححه فى الباب فلو افتتحه من غيره كره ولا شئ عليه
معلم الحجاج (ص: 155) ميں ہے:
سنن طواف: (1)حجر اسود کا استلام (2) اضطباع(3) اول کے تین چکروں میں رمل(4) باقی میں رمل نہ کرنا بلکہ اطمینان سے چلنا (5)سعی اور طواف کے درمیان استلام کرنا (یہ اس کے لیے ہے جو طواف کے بعد سعی کرے) (6)حجر اسود کے مقابل کھڑے ہو کر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ مثل تکبیر تحریمہ کے اٹھانا(7) حجر اسود سے طواف کی ابتدا ء کرنا (یہ اکثر کے نزدیک سنت ہے اور بعض واجب کہتے ہیں) (8) ابتدائے طواف میں حجر اسود کی طرف منہ کرنا (9) تمام چکر پے درپے کرنا (10) بدن اور کپڑوں کا نجاست حقیقہ سے پاک ہونا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved