- فتوی نمبر: 37-29
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میرے شوہر نے حمل کے دوسرے مہینے میں “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” دو بار ایک ہی وقت میں کہا۔ میں نے ایک بار سنا اور بے ہوش ہو گئی، لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے دو بار بولا تھا۔ پھر اسی دن انہوں نے مجھ سے ریلیشن (تعلق) بنایا اور معافی مانگی۔ حمل کے ساتویں مہینے میں انہوں نے پھر “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” ایک بار کہا۔ حنفی فقہ کے مطابق کل کتنی طلاق ہوئی ہیں اور کیا رجوع ہو سکتا ہے ؟ کیا ابھی بھی ہمارا نکاح باقی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر دیں۔
جواب وضاحت: *******
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بیوی کے بیان کی تصدیق کی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: جب شوہر نے پہلی دفعہ دو مرتبہ یہ کہا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تو ان الفاظ سے دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئیں، پھر شوہر کے عدت کے اندر رجوع کرنے سے سابقہ نکاح باقی رہا لیکن شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا پھر جب شوہر نے حمل کے ساتویں مہینے یہ کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تو اس جملہ سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی اور بیوی شوہر پر حرام ہوگئی لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
ہندیہ (1/172) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
ہندیہ (1/ 470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
فتاویٰ محمودیہ (12/425) میں ہے:
سوال: زید نے اپنی بیوی کو مجمع عام میں تین بار طلاق کے الفاظ اس طرح ادا کیے کہ “میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، طلاق دی، طلاق دی”۔ اور مجمع کے لوگوں سے کہا کہ جا کر ہماری بیوی کو اطلاع طلاق کی دے دو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو گئی یا بیوی کا خود اپنے کان سے سننا ضروری ہے؟…الخ
جواب: بیوی کا سننا ضروری نہیں بلا شبہ طلاقِ مغلظ واقع ہو گئی اب بلا حلالہ کیے تعلق زوجیت حرام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved