- فتوی نمبر: 35-212
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے سسرال والے روزانہ گالیاں دیتے اور شوہر کہتے تھے کہ بس برداشت کرو میری ماں ہے ، میں اپنے بھائی اور امی کو بلاکر میکے آگئی، شوہر نے طلاق کی دھمکی دی اور واپس بلانا چاہا میں نے شوہر کے تایا، چچا کو کال کرکے معاملہ بتایا اس پر ساس سسر مزید سخت ہو گئے ، تین مہینے گزر گئے ، شوہر نے پھر بلایا اور دھمکی دی کہ میں طلاق دے دوں گا واپس آجاؤ، میں نے جانے سے انکار کردیا، میں گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے ڈری ہوئی تھی، شوہر نے ایک طلاق کا پیپر بھیج دیا، پھر دو مہینے بعد شوہر رجوع کرنے آیا اور وعدے کیے کہ آئندہ طلاق نہیں دوں گا ، میرے ساتھ چلو ۔
شوہر کے والدین واپسی رجوع نہیں کرنے دے رہے تھے اور انہوں نے بہو کو لانے سے انکار کردیا تو عارضی وقت کیلئے شوہر نے الگ فلیٹ کا انتظام کیا لیکن والدین سے چھپانے کا کہا کیونکہ والدین طلاق پر بضد تھے اس لیے کہا کہ میں اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر بتا دوں گا۔ہم چھ ماہ ساتھ ہنسی خوشی رہے ، والدین کو علم ہو گیا کہ بیٹے نے ہمیں بغیر بتائے رجوع کرلیا ہے الگ فلیٹ میں رکھا ہے اس کے بعد شوہر نے مجھے میکے چھوڑ دیا اور فلیٹ میں تالے لگا دیے پھر دو دن بعد پیپر بھیج دیے ۔ شوہر نے کہا کہ میری ماں نے مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی اور کہا کہ “بیوی سے رشتہ رکھو یا ہم سے”سب بہن بھائی اور والدین تمہارے خلاف ہو گئے ، میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، میری وجہ سے اگر میری ماں مر جاتی میں کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کرتا، والدین کے سخت دباؤ ، عاق کرنے کی دھمکی کی وجہ سے اور والدہ کی صحت بحال کرنے کیلئے میں نے طلاق نامہ پر دستخط کردیے۔ میری والدہ نے تسلی کیلئے میرے والد سے بھی دستخط کروائے ۔
کیا مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے؟ اگر واقع ہوگئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوگئی ہیں؟ جبکہ میرا شوہر نبھانا چاہتا تھا اورا لگ فلیٹ میں بھی رکھا وہ والدہ کے دباؤ کی وجہ سے مجبور تھا۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔میاں بیوی دونوں کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔ 2۔دوسرا طلاقنامہ بھی مہیا کریں۔
جواب وضاحت:1۔ بیوی کا رابطہ نمبر: *******، شوہر کا رابطہ نمبر: ******۔ 2۔ ساتھ لف ہے۔
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو بلا جبر واکراہ اپنی رضامندی سے طلاق دی ہے، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا اور طلاقنامے پر دستخط کرتے وقت مجھے معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں ۔
اور بیوی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ طلاق کے وقت (28فروری) سے لے کر رجوع کے وقت (07 اپریل) تک تین ماہواریاں مکمل نہیں ہوئیں تھیں، ایک یا دو ماہواریاں آئی تھیں۔
پہلے طلاقنامے کی عبارت:
……….. یہ کہ میری شادی (نکاح ) مسماۃ فاطمہ سے مطابق شریعت اسلامی بعوض پچاس ہزار حق مہر کے کراچی میں انجام پائی ………. یہ کہ شادی کو عرصہ تین سال گزرنے کے بعد اب ہماری آپس میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی بناء پر اور لڑکی کا اپنے والد کے گھر پر بیٹھ جانا اور زید کی طرف سے بلانے پر بھی نہ آنے کی وجہ سے اور زبان درازی اور نافرمانی کی وجہ سے میں اپنی زوجہ مسماۃ فاطمہ بنت خالد کو ایک طلاق دے رہا ہوں ۔
مسمیٰ زید ولد بکر اپنی بیوی مسماۃفاطمہ بنت خالد کو طلاق دیتا ہوں ۔
یہ کہ مسماۃ فاطمہ بنت خالد شریعت کے مطابق مجھ سے تین ماہ میں رجوع کر سکتی ہے ورنہ یہ طلاق قائم ہو جائے گی۔
یہ کہ مذکورہ طلاقنامہ آج مؤرخہ 2025-02-28 کو روبرو گواہان اپنی ہدایات اور مرضی کے عین مطابق اردو میں پڑھ کر، سن کر، سمجھ کر درست تسلیم کرتے ہوئے اپنے نشان انگوٹھا ثبت کردیے ہیں تاکہ ثبوت رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔
رجوع نامہ کی عبارت:
میں مسمیٰ زید ولد بکر ……… اس بات کا صدقِ دل سے اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنی زوجہ فاطمہ بنت خالد …….سے پورے ہوش وحواس میں رجوع کرتا ہوں …… الخ
دوسرے طلاقنامے کی عبارت:
یہ طلاق نامہ آ ج مؤرخہ 2025-12-09کو کراچی میں تحریر کیا گیا ہے۔ میں زید ولد بکر اپنی منکوحہ مسماۃ فاطمہ بنت خالد کو دو گواہوں کی موجودگی میں اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں اور اسے تین طلاقیں دیتا ہوں اور آج کے بعد ہمارا آپس میں کسی قسم کا تعلق یا واسطہ نہیں ہوگا………. الخ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔
توجیہ :طلاق نامے کی تحریر چونکہ کتابت مستبینہ مرسومہ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کے دستخط کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا پہلے طلاق نامے کے ان الفاظ سے کہ “اپنی بیوی مسماۃ فاطمہ بنت خالد کو طلاق دیتا ہوں” ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی پھر چونکہ شوہر نے عدت میں رجوع کر لیا تھا اس لیے نکاح باقی رہا اور شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ گیا۔
باقی دو طلاقیں دوسرے طلاق نامے میں لکھے گئے ان الفاظ سے واقع ہو گئیں کہ” مسماۃفاطمہ بنت خالد کو دو گواہوں کی موجودگی میں اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں اور اسے تین طلاقیں دیتا ہوں” لہذا اس طرح تین طلاقیں مکمل ہو گئیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی اس کے بعد جوطلاق کے الفاظ لکھے ہیں وہ لغو ہیں۔
شامی (4/442) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو
عالمگیری (1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
بدائع الصنائع(3/283)میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت“
بدائع الصنائع (3/ 187) میں ہے :
«وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
