• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“تم میری طرف سے فارغ ہو” کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

میراسوال یہ ہے کہ میرے شوہر کو جب بھی غصہ  آتا ہے اور لڑائی کرتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ “میری طرف سے تم فارغ ہو، میری طرف سے تم آزاد ہو، دفع ہوجاؤ یہاں سے” ایک دفعہ کسی چیز پر شرط رکھی کہ “یہ کام تم نے نہ کیا تو تم آج پکی  فارغ ہو میری طرف سے” تو مجھے غصہ آیا میں نے کہا  کہ” کردو فارغ، روز کرتے ہو” یہ جنوری کی 19 تاریخ تھی، اس کے بعد میں نے بات کرنا بھی چھوڑ دی اور پھر اس نے اپنے کزن کو کہا کہ یہ کہتی ہے ہمارا رشتہ ختم ہے اس سے پوچھو کیوں کہتی ہے ، اپنےالفاظ ان کو کھیل لگے پھر میں نے ان کو بتایا  کہ اس نے مجھے ایسی شرط رکھ کر کہا  تو میں نے کہا کہ “فارغ کردو” اس کے بعد میں نے بات کرنا چھوڑ دی تو انہوں نے اس سے پوچھا تو یہ مان گیا کہ  ہاں میں نے ان سے کہا ہے کہ “میری طرف سے  تم فارغ ہو” اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح سے فارغ ہے تو جائے یہاں سے اس نے  نیت کا ذکر بھی نہیں کیا  کہ میری  نیت نہیں تھی، پھر جب میرا بھائی آیا کہ میں لے جاتا ہوں تو یہ  بدل گیا کہ میری تو یہ نیت نہیں تھی میں  نے کہا کہ کسی مفتی صاحب کے پاس چلو لیکن نہ میرے بھائی نے جانے دیا اور نہ ہی انہوں نے اور کہتے ہیں کہ اگر مفتی صاحب کہیں گے کہ حلالہ ہوگا تو بے عزتی ہوگی، وہ سب  چاہتے ہیں کہ ایسے ہی  سب ٹھیک کرلو۔ آپ بتائیں کہ میں کیا کروں؟  میرے سسرال والے سب شیعہ بن چکے ہیں  وہ یہ طلاق مانتے ہی نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں ايك بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے، لہذا  اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے بیوی کو غصے میں یہ کہا کہ ” میری طرف سے تم  فارغ ہو” تو ان الفاظ سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی  کیونکہ یہ الفاظ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں ، جن سے غصے کی حالت میں نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اس کے بعد ” میری طرف سے  تم آزاد ہو، دفع ہوجاؤ یہاں سے، پکی فارغ ہو” وغیرہ الفاظ کہنے سے  “البائن لا یلحق البائن” کے تحت دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔

درمختار (4/521) میں ہے:

 (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا

و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.

درمختار (4/531) میں ہے:

(لا) يلحق البائن (البائن)

احسن الفتاوی (5/188) میں ہے:

سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے “تو فارغ ہے ” یہ کون سا کنایہ ہے؟…… حضرت والا اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔بینوا توجروا

جواب : بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ فقط اللہ تعالی اعلم۔

امداد الاحکام(610/2) میں ہے:

اور چوتھا جملہ یہ ہے کہ ”وہ میری طرف سے آزاد ہے”اس کنایہ کا حکم در مختار میں صریح موجود ہے کہ غضب ومذاکرہ طلاق میں بدون نیت بھی طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved