• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وائس میسج پر طلاق دینے کا حکم

استفتاء

میرے شوہر ملک سے باہر ہیں،انہوں نے 20.5.2024 کو میرے سسر کو واٹس ایپ  پر زبانی وائس میسج بھیجا، جس میں انہوں نے میرا اور میرے والد کا نام لیکر تین طلاقیں دیں، میرے سسر نے وہ میسج ہمارے علاقے کے معزز کو بھیجا اور علاقے کے معزز سے وہ میسج 21.5.2024 کو میرے والد صاحب کو موصول ہوا۔ہمارے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ سوالات کے دین اسلام  کی روشنی میں جوابات مطلوب ہیں:

  1. آیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟
  2. اگر طلاق واقع ہوگئی تو عدت کا دورانیہ کب سے شروع ہوگا؟
  3. کیا مجھے طلاق کے کاغذات کا مطالبہ کرنا چاہیے؟
  4. میرے شوہر نے حق مہر ادا نہیں کیا تھا، تو اس کے بارے میں میرا مطالبہ جائز ہوگا یا نہیں؟

تنقیح: وائس میسج یہ تھا کہ “میں زید فاطمہ بنت  خالد کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں”

وضاحت مطلوب ہے: آپ کی اپنے شوہر کے ساتھ رخصتی  یا خلوت ہوچکی ہے یا نہیں؟

جواب وضاحت: رخصتی ہوچکی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے مذکورہ وائس میسج بھیجا تھا تو بیوی کو  تینوں طلاقیں واقع  ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب  رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

2۔جس وقت آپ کے شوہر نے وائس میسج ریکارڈ کیا تھا اسی وقت سے عدت کا دورانیہ شروع ہوجائے گا۔

3۔ شرعاً تو کاغذات کا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں تاہم قانوناً کاغذات کی ضرورت  ہے تو کرلینا چاہیے۔

4۔ مذکورہ صورت میں حق مہر کا مطالبہ جائز ہوگا۔

در مختار مع رد المحتار(4/509) میں ہے:

[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل

قوله: (كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

ہندیہ (1/532) میں ہے:

ابتداء العدة فى الطلاق عقيب الطلاق وفى الوفاة عقيب الوفاة.

ہندیہ  (1/526) میں ہے:

 اذا طلق الرجل امراته طلاقا بائنا او رجعيا او ثلاثا او وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهى حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة اقراء سواء كانت الحرة مسلمة او كتابية كذا فى السراج الوهاج.

ہدایہ (2/347) میں ہے:

واذا خلا الرجل بإمرأته وليس هناك مانع من الوطى ثم طلقها فلها كمال المهر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved