• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

وضو سے معذور آدمی کے لیے طواف کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو مسلسل ریح کی بیماری ہے اور وہ نماز بھی معذور کے حکم کے مطابق پڑھتا ہے۔ اب وہ شخص عمرہ پر جانا چاہتا ہے تو وہ طواف کیسے کرے؟ اور گھٹنوں کی بھی تکلیف ہے بار بار وضو کے لیے بھی جانا مشکل ہے، تو اس شخص کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسا شخص جب ایک نماز کے لیے وضو کر لے تو اس کا یہ وضو اس نماز کے وقت کے ختم ہونے تک باقی سمجھا جائے گا بشرطیکہ اس عذر کے علاوہ اور کوئی وضو توڑنے والی چیز نہ پائی جائے۔ لہذا ایسا شخص نماز کے لیے کیے گئے وضو سے طواف کر سکتا ہے، اور اگر طواف کے دوران نماز کا وقت ختم ہو جائے تو دوبارہ وضو کر کے اپنے طواف کو پورا کر لے۔

في غنية الناسك (1/ 127):

و صاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ثم خرج الوقت توضأ و بنى و لا شيء عليه و كذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حينئذ أفضل كما قدمنا…….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved