• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

1۔ زینت یا ازالۂ عیب کے لیے ڈرمل فلر (Dermal Filler) اور بوٹوکس (Botox) کروانے کا حکم 2۔ ڈرمل فلر (Dermal Filler) اور بوٹوکس (Botox)کرنے والے ڈاکٹر کی کمائی کا حکم

استفتاء

آج کل چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے ڈرمل فلر (Dermal Filler) اور بوٹوکس (Botox) کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ ان دونوں طریقۂ علاج کی طبی حقیقت مختصراً درج ذیل ہے:

ڈرمل فلر (Dermal Filler):

یہ عموماً ہائیلورونک ایسڈ (Hyaluronic Acid) پر مشتمل ایک جیل نما مادہ ہوتا ہے، جسے انجکشن کے ذریعے چہرے کے مختلف حصوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ہونٹوں کو زیادہ بھرا ہوا یا ابھرا ہوا بنانا،خاص شکل دینا، باریک کو موٹا کرنا، گالوں کو ابھار دینا، جَو لائن کو نمایاں کرنا، چہرے کی کونٹورنگ کرنا، آنکھوں کے نیچے کے گڑھوں کو بھرنا اور گہری مسکراہٹ کی لکیروں کو کم نمایاں کرنا ہوتا ہے۔

یہ ایک عارضی (Temporary) طریقہ ہے، جس میں نہ مستقل سرجری ہوتی ہے اور نہ ہی کاٹ پھاڑ۔ فلر عموماً 6 سے 18 ماہ کے اندر جسم میں خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔

بوٹوکس (Botox):

بوٹوکس ایک انجکشن ہے، جو مخصوص عضلات کو عارضی طور پر ڈھیلا کر دیتا ہے، جس سے پیشانی کی لکیریں، بھنوؤں کے درمیان کی لکیریں اور آنکھوں کے کناروں کی جھریاں کم نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس کا اثر عموماً 3 سے 6 ماہ تک رہتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے۔

درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

1۔اگر کوئی مرد یا عورت صرف حسن میں اضافہ، زیب و زینت، جوان نظر آنے یا فیشن و ٹرینڈ کی خاطر ڈرمل فلر یا بوٹوکس کروائے، جبکہ کوئی طبی ضرورت یا جسمانی نقص موجود نہ ہو، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

2۔اگر کسی شخص کے چہرے میں پیدائشی نقص، واضح غیر متناسب ساخت، یا کسی حادثے، جلنے، بیماری یا آپریشن کے باعث خرابی پیدا ہو گئی ہو، اور ڈرمل فلر یا بوٹوکس کے ذریعے صرف اس خرابی کو دور کرکے چہرے کو معمول کی حالت میں لایا جا رہا ہو، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟

3۔اگر یہ عمل عارضی ہو، اس میں مستقل تبدیلی، سرجری یا کاٹ پھاڑ نہ ہو، اور استعمال ہونے والا مادہ بھی شرعاً جائز اور طبی اعتبار سے محفوظ ہو، تو کیا اس عارضی ہونے سے شرعی حکم میں کوئی فرق آتا ہے؟

4۔ایک ڈاکٹر یا کاسمیٹک سرجن کے پاس مختلف قسم کے مریض آتے ہیں۔ عملاً ہر مریض سے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ وہ صرف اپنے شریکِ حیات کے لیے زیب و زینت اختیار کر رہا ہے یا غیر محرم لوگوں کے سامنے زیادہ پرکشش نظر آنے کے لیے، یا اس کا مقصد محض فیشن اور ٹرینڈ کی پیروی ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کے لیے شرعی اعتبار سے کیا ذمہ داری ہے؟ کیا وہ مریض کے ظاہر کردہ مقصد پر اعتماد کرے، یا اس سے مزید تحقیق کرنا لازم ہے؟

5۔اگر ڈاکٹر کو کسی مریض کی نیت یا اصل مقصد کا یقین نہ ہو، بلکہ صرف اتنا معلوم ہو کہ وہ یہ کاسمیٹک طریقۂ علاج کروانا چاہتا ہے، تو کیا ڈاکٹر کے لیے یہ عمل انجام دینا جائز ہوگا؟

6۔اگر بعض مریض واقعی کسی طبی ضرورت، پیدائشی نقص یا حادثے کی وجہ سے یہ علاج کرواتے ہوں، جبکہ بعض صرف زیب و زینت کے لیے، تو ایسے مخلوط حالات میں ڈاکٹر کے پیشے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا شرعی حکم ہوگا؟ کیا اس پیشے سے حاصل ہونے والی اجرت حلال ہوگی، یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت، فقہائے کرام کے اقوال اور معاصر فقہی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی مفصل وضاحت فرما دیں، تاکہ ڈاکٹر اور عام مسلمان دونوں کے لیے شرعی رہنمائی حاصل ہو سکے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جائز ہے جبکہ  اس سے مقصود کسی کو دھوکہ دینا نہ ہو ، اگر کسی کو دھوکہ  دینا مقصود  ہو تو یہ عمل جائز نہ ہوگا ۔

3،2۔جائز ہے۔

5،4۔علاج جائز اور  ناجائز دونوں مقاصد کے لیے کروایا جاسکتا ہے  وہاں ڈاکٹر پر شرعاً لازم نہیں ہے کہ پہلے  مریض سے پوچھے کہ آیا جائز مقصد کے لیے کروارہا ہے یا ناجائز مقصد کے لیے۔ اس صورت میں اگر مریض ناجائز مقصد کے لیے علاج کروائے گا تو ڈاکٹر پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا البتہ اگر مریض خود بتادے یا کسی بھی مستند ذریعے سے ڈاکٹر کو علاج سے قبل معلوم ہوجائے کہ یہ مریض ناجائز مقصد کے لیے علاج کروانا چاہتا ہے تو وہاں ڈاکٹر کے لیے بُرائی کے کام میں تعاون کی وجہ سے علاج کرنا جائز نہیں ہوگا۔

6۔جس شخص کے بارے میں سرجری سے قبل  یقین یا غالب گمان تھا کہ یہ کسی کو دھوکہ دینے لیے یہ سرجری کروا رہا ہے اس صورت میں آمدنی حلال نہ ہو گی اور جس صورت میں  سرجری سے قبل یقین یا غالب گمان نہیں تھا کہ مریض کسی کو دھوکہ دینے کے لیے سرجری کروا رہا ہے اس صورت میں حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی ۔

بذل المجہود (12/ 197) میں ہے:

الظاهر أن المراد بتغيير خلق الله أن ما خلق الله سبحانه وتعالى حيوانًا على صورته المعتادة لا يغير فيه، لا أن ما خلق على خلاف العادة مثلًا كاللحية للنساء أو العضو الزائد ‌فليس ‌تغييره تغييرا لخلق الله

ہندیہ (5/ 360) میں ہے:

إذا أراد الرجل أن ‌يقطع ‌إصبعا زائدة أو شيئا آخر………… إن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك

شامی (6/ 373) میں ہے:

«ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، ‌لأن ‌الزينة للنساء مطلوبة للتحسين،»

تکملہ فتح الملہم (169/4)میں ہے :

وأما ماتزينت به المرأة من تحمير الأيدي أو الشفاه أو العارضين بما لا يلتبس بأصل الخلقة فانه ليس داخلا في النهي

تکملہ  فتح الملہم(4/195)میں ہے :

والحاصل ان كل مايفعل من جسم من الزيادة  او نقص من اجل الزينة بما يجعل الزيادة او النقصان مستمرا مع الجسم وبما يبدو منه انه كان في اصل الخلقة هكذا فانه تلبيس وتغيير منهي عنه۔

تکملہ  فتح الملہم(4/88)میں ہے :

قوله:واجتنبوا السواد به استدل من قال یمنع الخضاب بالسواد وتفصیل الکلام فی ذلک أن الخضاب بالسواد یختلف حکمه باختلاف الأغراض علی الشکل التالی:والثانی أن یفعله الرجل للغش والخداع،ولیری نفسه شابا،ولیس بشاب فهذا ممنوع بالاتفاق،لاتفاق العلماء علی تحریم الغش والخداع

عمدة القاری شرح صحيح  البخاری (20/ 193) میں ہے:

«قوله: (الموصلات) بضم الميم وفتح الواو وبالصاد المهملة بالفتح والكسر وفي رواية الكشميهني الموصولات. ثم العلة في تحريمه أما لكونه شعار الفاجرات أو تدليسا وتغيير خلق الله عز وجل، ولا يمنع من الأدوية التي تزيل الكلف وتحسن الوجه»

التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن، ت:۸۰۴ھ  (25/ 45) میں ہے:

«والتحريم إما لكونه تدليسا، أو شعار الفاجرات، أو تغيير خلق الله. ولا يمنع من الأدوية التي تزيل الكلف وتحسن الوجه»

البحر الرائق (8/ 554)میں ہے:

والأصل أن ‌إيصال ‌الألم إلى الحيوان لا يجوز شرعا إلا لمصالح تعود إليه وفي الختان إقامة السنة وتعود إليه أيضا مصلحته لأنه جاء في الحديث «الختان سنة يحارب على تركها» وكذا يجوز كي الصغير وربط قرحته وغيره من المداواة وكذا يجوز ثقب أذن البنات الأطفال؛ لأن فيه منفعة للزينة وكان يفعل ذلك من وقته – صلى الله عليه وسلم – إلى يومنا هذا من غير نكير

جوہرۃ النیرۃ(2/172)میں ہے:

(ويكره ‌بيع ‌السلاح في أيام الفتنة) معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة كالخوارج والبغاة لأن في ذلك معونة علينا وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة فلا بأس بذلك.

دررالحکام (3/441) میں ہے:

(کره بیع السلاح من أهل الفتنة) لأنه إعانة علی المعصية (وإن لم یدر أنه منهم لا) أی لایکره

فتاوی عثمانی(3/84)  میں ہے:

سوال:روزے کے دوران بیکری کا سامان فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں،اور پتہ ہوکہ یہ شخص روزے کی حالت میں بھی کھائے گا تو اسے بھی فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:رمضان میں بیکری کا سامان فروخت کرنا جائزہے،البتہ جس شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ بغیر کسی عذر کے دن کے وقت کھانے کے لیے خریدرہاہے اسے بیچنا جائز نہیں ہےمعلوم نہ ہو کہ کیا کرےگا تو جائز ہے۔

مریض و معالج کے اسلامی احکام( ص 369 ) میں ہے :

عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يكون قوم في آخر الزمان يخضبون ‌بهذا ‌السواد كحواصل الحمام لا يجدون رائحة الجنة

ان حدیثوں میں جو باتیں ذکر کی گئی ہیں وہ حسن و زینت کی تحصیل کے لئے اختیار کی جاتی ہیں جیساکہ  خود پہلی حدیث میں اس کی تصریح بھی ہے۔جب تحصیل حسن بذات خود ممنوع بھی نہیں ہے تو پھر ان کی ممانعت اور وعید کی وجہیں یہ نظر آتی ہیں :

1۔دوسرے کو دھوکہ دینا مثلا بڑھاپے کو چھپایا جائے اور اپنے آپ کو جوان دکھایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تغیرات جن سے دھوکہ و فریب دینا ہو مثلا چہرے سے بڑھاپے کی جھریوں کو سرجری کے ذریعے دور کر دیا جائے تاکہ آدمی خصوصا عورت جوان نظر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تمام تغیرات جن کے بارے میں اوپر ذکر ہوا کہ وہ شریعت کے مخالف ہیں ظاہر ہے کہ اگر کوئی ان کا ارتکاب کرے تو اس کے پاس ان کے جواز میں کوئی شرعی دلیل تو نہ ہوگی ۔اس وقت ان کا ارتکاب  محض نفس و شیطان کے اتباع میں ہوگا اور نفس کو بھی شیطان ہی اپنا آلہ بناتا ہے۔لہذا اس قسم کے تمام تغیرات شیطان کی پیروی میں ہوں گے اور قرآن پاک کی اس آیت میں داخل ہیں : ولآمرنهم فليغيرن خلق الله یعنی شیطان نے کہہ رکھا ہے کہ میں لوگوں کو حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی پیدائش کو بدل ڈالیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved