• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نشے اور غصے کی حالت میں تین طلاقیں دینے کا حکم

استفتاء

میرے خاوند نے غصے اور  نشہ کی حالت میں ارادۃً  میری بہن کو تین مرتبہ فون پر کہا کہ” میں اس کو طلاق دیتا ہوں” جسے  میں نے بھی   ایک مرتبہ اپنے کانوں سے سنا  اور پھر  اسی دن میرے بہنوئی کو بھی تین مرتبہ کہا ۔ اب یہ مسئلہ ہے اس کا حل کیا ہے؟

وضاحت مطلوب ہے:1۔ نشہ کس چیز کا تھا اور نشے کی کیفیت کیا تھی؟2۔ شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔

جواب وضاحت : 1۔یہ  تو مجھے نہیں معلوم کہ کس چیز کا نشہ تھا یا کس نوعیت کا تھا یہ آپ ان  سے پوچھ لیں ۔

2۔***********

شوہر کا بیان :

شوہر کو کال کی گئی تو اس نے یہ بیان دیا کہ میری بیوی نے مجھے تنگ کر رکھا تھا مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کی بہن کو کال کی اور تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے کہ” میں اس کو طلاق دیتا ہوں “مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کیا کہا تھا اور شدید غصہ  میں تھا کوئی خلاف عادت قول یا فعل  سرزد نہیں ہوا ۔

شوہر سے نشہ  کی تفصیل پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نشہ کیا تھا تھوڑی سی ویسکی   پی رکھی تھی یہ معاملہ تقریبا تین ماہ پہلے کا ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاق واقع ہو گئی ہیں لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

تو جیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان سے واضح ہے کہ جس وقت اس نے طلاق دی تھی وہ نشہ میں مغلوب نہیں تھا یعنی  نشہ کی وجہ سے نہیں دی تھی بلکہ بیوی پر غصہ ہونے کی وجہ سے دی تھی اور غصے کی بھی ایسی کیفیت نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اگرچہ اس نے شراب پینے کا ذکر کیا ہے لیکن طلاق دیتے وقت وہ ہوش وحواس میں تھا جس کی وجہ سے اس نے  بیوی کی بہن کو فون کیا اور طلاق کے الفاظ ادا کیے جو اسے اچھی طرح یاد ہیں  اور ایسی کیفیت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا اس صورتحال میں تینوں طلاق واقع ہو چکی ہیں۔

شامی (4/432) میں ہے:

أن المراد ‌أن ‌يكون ‌غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء

رد المحتار(4/439) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه……………

(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved