- فتوی نمبر: 26-122
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
بیوی کا حلفی بیان:
میرا نام *** دختر ***ہے، میں مکان نمبر *** کی رہائشی ہوں، میں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہوں، میری عمر 30 سال ہے، شادی کے تقریبا ایک سال بعد میرے شوہر ***نے معمولی جھگڑے کی بنا پر مجھے غصے میں تین دفعہ طلاق کے الفاظ بول دیے کہ ’’میں تمہیں طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں‘‘ میں یہ سن کر بے ہوش ہو گئی، میرے ساس سسر نے مجھے سنبھالا اور انہوں نے کہا ان الفاظ سے کچھ نہیں ہوتا، میں نے یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی، اس کے فورا بعد انہوں نے رجوع کر لیا اور میرے ساتھ صلح کرلی، دوبارہ فروری 2019 میں میرے شوہر نے انتہائی غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اسی رات کو میں ان کے پاس صلح کی نیت سے گئی تو انہوں نے فون پر اپنے والد صاحب کو گواہ بنا کر مجھے طلاق کے الفاظ دوبارہ تین دفعہ کہے کہ ’’میں اس کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ ہم دونوں دوبئی میں تھے اور وہ کرونا کی وجہ سے پاکستان واپس جا رہے تھے، بیٹی کو ساتھ لے جانا چاہ رہے تھے لیکن میں چاہتی تھی کہ بیٹی میرے ساتھ دوبئی میں رہے، اس بات پر جھگڑا ہوا تھا، اس کے بعد کچھ دن ہم میاں بیوی کی طرح ساتھ بھی رہے، پھر میں نے یہ بات اپنے والدین کو بتائی تو انہوں کہا کہ تمہارا نکاح ختم ہو گیا ہے، تم شوہر سے علیحدہ ہو جاؤ تو میں شوہر سے علیحدہ ہو گئی اور وہ بیٹی کو لے کر پاکستان چلے گئے، اب میرے شوہر کہتے ہیں کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اور نہ ہی مجھے ان الفاظ کی اہمیت کا اندازہ تھا، یہ واقعہ شدید غصہ کی وجہ سے ہوا ہے، میری نیت ڈرانے دھمکانے کی تھی۔ انہوں نے مجھے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیانات سنائے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہیں، لہذا اہل حدیث مسلک کے مطابق ہماری صرف ایک طلاق ہوئی ہے، اور پہلے میں نے جو طلاق دی تھی وہ ایک دی تھی اور رجوع کر لیا تھا اس لیے وہ طلاق ختم ہو گئی تھی اب وہ شمار نہیں ہو گی۔ میری مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ مجھے اس مسئلے کا شرعی حل بتائیں تاکہ میں کسی قسم کے گناہ میں مبتلا نہ ہوں، میرے لیے جو بھی حکم ہے مجھے اس سے آگاہ فرما یا جائے، عین نوازش ہوگی۔
شوہر کا بیان:
پہلے واقعے میں صرف ایک مرتبہ میں نے طلاق کا لفظ بولا تھا اور میری طلاق کی نیت نہیں تھی، غصے میں یہ لفظ بولا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، اور میں نے کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا، فروری 2019 والے واقعے میں ہم دونوں دوبئی میں تھے اور میں کرونا کی وجہ سے پاکستان واپس جا رہا تھا، میں بیٹی کو ساتھ لے جانا چاہ رہا تھا لیکن وہ چاہتی تھی کہ بیٹی اس کے ساتھ دوبئی میں رہے، اس بات پر جھگڑا ہوا تھا، میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اور بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا، میں نے کہا کہ اگر تم نے بچی کو مجھ سے لینے کی کوشش کی تو میں کھڑکی سے چھلانگ لگا دوں گا، وہ بچی کو لینے کے لیے آگے بڑھی تو اسے ڈرانے دھمکانے کے لیے میں نے یہ الفاظ بول دیے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اسی رات کو میں نے دوبارہ فون پر اپنے والد صاحب کو گواہ بنا کر طلاق کے الفاظ تین دفعہ کہے کہ ’’میں اس کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ دونوں مرتبہ میں نے غصے میں طلاق کے الفاظ کہے تھےمیری نیت طلاق کی نہیں تھی، اور نہ ہی مجھے ان الفاظ کی اہمیت کا اندازہ تھا، مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن میری نیت ڈرانے دھمکانے کی تھی، کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، البتہ بیوی کے حق میں تو اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں جب بیوی نے پہلی مرتبہ شوہر سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں‘‘ جن کی وجہ سے بیوی اسی وقت شوہر پر حرام ہو گئی تھی، اور اس کے لیے شوہر کے پاس بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز نہیں تھا ، لہذا شوہر سے علیحدہ ہونے تک جو بیوی کی حیثیت سے شوہر کے پاس رہی ہے اس پر توبہ و استغفار کرے۔ اور شوہر کے حق میں فروری 2019 تین طلاقیں دینے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، اور اگر ان تین طلاقوں کو ایک بھی مان لیں تو چونکہ ایک طلاق شوہر پہلے واقعے میں دے چکے تھے اور تین طلاقیں اپنے والد کو فون پر گواہ بنا کر دے چکے ہیں اس لیے شوہر کے حق میں بھی تین طلاقیں بہر صورت واقع ہو چکی ہیں، باقی رہی نیت یا غصے کی بات تو ان دونوں باتوں سے مذکورہ صورت میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔
توجیہ: طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر وہ خود شوہر کو طلاق دیتے ہوئے سن لے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں بھی جب بیوی نے پہلی مرتبہ شوہر سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں‘‘ تو بیوی کے حق میں اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد دوبارہ فروری 2019 میں جب شوہر نے غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تو شوہر کے حق میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں کیونکہ اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہیں، لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل سرزد ہوا، غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور اگر اس کو ایک طلاق بھی شمار کریں تو چونکہ ایک طلاق شوہر پہلے دے چکے ہیں اور تین طلاقیں اپنے والد کو فون پر گواہ بنا کر دے چکے ہیں اس لیے تین طلاقیں بہر صورت واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال ……… اما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امرأتك وبانت منك
’’نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘
ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.
ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك
’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)‘‘
تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
علامہ بدرالدین العینی رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری (232/1)میں تحریر فرماتے ہیں :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.
مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا…
وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
فتاوی شامی (4/439) میں ہے:
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل علی عدم نفوذ أقواله …………….فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved