• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسلمانوں کا عیسائیوں کے قبرستان کو جنازگاہ بنانے کاحکم

استفتاء

ہمارے گاؤں*** تحصیل ***ضلع ***میں مسلمانوں کا قبر ستان ہے جس میں مسلمانوں کی تدفین ہوتی ہے لیکن بالکل ساتھ عیسائی برادری  کا قبر ستا ن تھا اور  50سال  سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے  کہ عیسائی برادری کی نہ  کوئی  تدفین  ہوئی ہے اور نہ ہی ہمارے  گاؤں میں اس وقت عیسائی  برادری ہے  ۔کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جس جگہ  پر عیسائی  لوگوں کا قبرستان  تھا جومسلمانوں کے قبرستان کے ساتھ متصل ہے  جس کا نام ونشان مٹ چکاہے اوروہاں  کوئی  بھی قبر  نہیں ہے جبکہ وہ جگہ فالتوبھی  ہےکہ  ہم عیسائیوں کی جگہ کومسلمانوں  کی جنازگا ہ کے لیے استعمال کریں ؟اس بابت فتویٰ جاری کیا جائے ۔

تنقیح :قبرستان کی زمین سرکاری ہے کسی کی ملکیت نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے تو اہل علاقہ عیسائیوں کے قبرستان کو جنازگاہ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں ۔

ردالمحتار (3/164)میں ہے:

  قال في الأحكام لا بأس بأن يقبر المسلم في مقابر المشركين إذا لم يبق من علاماتهم شيء كما في خزانة الفتاوى وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا لما روي أن مسجد النبي كان قبل مقبرة للمشركين فنبشت كذا في الواقعات اه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved